تہران (مانیٹرنگ ڈیسک): ایران کی پاسدارانِ انقلاب (سپاہِ پاسداران) کی بحریہ نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ شمالی خلیج فارس کے وسطی علاقے میں غیر قانونی راستوں سے تیل کی منتقلی میں مصروف 4 ’خلاف ورزی کرنے والے‘ بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ان میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی بحریہ نے وضاحت کی کہ ایران اس بحری راستے کو غیر قانونی تصور کرتا ہے جسے عمان نے آبنائے ہرمز کے جنوب میں بحری آمدورفت کے لیے مقرر کیا ہے اور جس کی سلامتی کا ضامن امریکہ بنتا ہے۔ مزید برآں، ایرانی بیان میں انکشاف کیا گیا کہ گزشتہ رات مزید 3 جہاز مغربی آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا کر حادثے کا شکار ہوئے اور ان میں بھی آگ لگ گئی۔ پاسدارانِ انقلاب نے حادثات کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج کی جانب سے جہازوں کو بارودی سرنگوں سے آلودہ راستوں سے گزارنے کی ضد ان خطرات کو بڑھا رہی ہے، اور ساتھ ہی امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اشتعال انگیز اقدامات نہ روکے گئے تو خطے میں موجود امریکی عسکری اڈوں کے خلاف سخت اور وسیع تر ردِعمل دیا جائے گا۔ دوسری جانب، خلیج فارس میں کشیدگی اور حملوں کے خطرات کے باوجود تجارتی انٹیلی جنس کمپنی ’کیپلر‘ (Kpler) کے اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات جنگ سے پہلے کی سطح سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شپنگ کمپنیوں نے آبنائے ہرمز جیسے خطرناک بحری راستوں سے بچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کر لیے ہیں، جس کی بدولت 18 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں خلیج فارس کے ملکوں (ماسوائے ایران) کی یومیہ اوسط برآمدات 2 کروڑ 46 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں، جو کہ جنگ سے قبل کی 2 کروڑ 33 لاکھ بیرل یومیہ اوسط سے کہیں زیادہ ہیں۔
آبنائے ہرمز میں 7 تیل بردار جہازوں میں آتشزدگی، پاسدارانِ انقلاب ، مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات میں ریکارڈ اضافہ

