یروشلم / لندن : اسرائیلی قیدخانے میں ”جہنم کی بیرک“ کے نام سے بدنام زمانہ (Hell’s Wing) میں فلسطینی قیدیوں کے ڈالے جانے کے بعد ایک دہلا دینے والا منظر سامنے آتا ہے۔ دونوں ٹانگوں سے معذور ایک شخص پر ربڑ کی گولیاں برسائی گئیں، اور جب وہ بے بس ہو کر زمین پر گر پڑا تو ہاتھ پاؤں کس کر باندھنے کے بعد امریکی ساختہ (Taser Gun) سے اس کے جسم کو برقی جھٹکے دیئے گئے۔ یہ کہانی کسی خوفناک فلم کا اسکرپٹ نہیں بلکہ 43 سالہ عیسیٰ کی آپ بیتی ہے، جو اسرائیلی قید خانے کی چہار دیواری کے پیچھے بربریت کے ایسے ننگے ناچ کا شکار بنا جس کے گہرے داغ ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی اس کے جسم پر نقش ہیں۔
دی گارڈین (The Guardian) اور ‘عرب رپورٹرز فار انویسٹی گیٹو جرنلزم’ کی ایک مشترکہ اور تہلکہ خیز تحقیقاتی رپورٹ میں یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی فورسز اور قید خانوں کا عملہ فلسطینی قیدیوں اور معذوروں پر تشدد اور کرنٹ لگانے کے لیے امریکی کمپنی ایکسون انٹرپرائز (Axon Enterprise) کی ساختہ ٹیزر (Taser) گنز کا بلا دریغ اور وحشیانہ استعمال کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق عیسیٰ کو جنوری 2024 میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ اسرائیلی میزائل حملے کے نتیجے میں اپنے دونوں پاؤں کٹوا چکا تھا۔ عیسیٰ کو عوفر (Ofer) جیل میں طویل عرصے تک قید رکھنے کے بعد اکتوبر 2025 میں رہا کیا گیا۔ انٹرنیشنل ری ہیبلیٹیشن کونسل فار ٹارچر وکٹمز (IRCT) کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عیسیٰ کے جسم پر الیکٹرک شاکس کے داغ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسے انتہائی بیدردی سے کس کر باندھا گیا اور مسلسل الیکٹرک شاکس دیے گئے۔
عیسیٰ اکیلا نہیں، بلکہ 2024 اور 2025 کے درمیان آزاد ہونے والے دیگر 3 فلسطینی قیدیوں نے بھی تصدیق کی ہے کہ ان کے خلاف ایکسن کمپنی کے انہی برقی ہتھیاروں کو اذیت دینے کا ذریعہ بنایا گیا۔
اسرائیلی ملٹری ایڈووکیٹ جنرل اتائی اوفیر (Itai Ofir) کی جانب سے جولائی 2024 میں سڈے تیمان کیمپ میں ایک فلسطینی قیدی پر مبینہ جنسی اور جسمانی تشدد کے معاملے کی تحقیقات کے دوران یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ 5 اسرائیلی فوجیوں نے قیدی کو شدید اذیت دینے اور اسپتال پہنچانے کے لیے ٹیزر گن کا استعمال کیا تھا۔
نومبر 2025 میں اقوامِ متحدہ کی انسدادِ تشدد کمیٹی (UN Committee Against Torture) نے بھی اپنی رپورٹ میں ہولناک خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ:
’’7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی قید خانوں میں فلسطینیوں پر تشدد، برقی جھٹکوں اور اذیت ناک رویوں میں ریکارڈ حد تک اضافہ ہوا ہے۔
فلسطینی قیدیوں کے ساتھ جنسی تشدد، ریپ، اور حساس اعضاء پر الیکٹرک شاکس دینے کے سنگین واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔’’
عالمی سطح پر شدید تنقید اور ‘ایمنسٹی انٹرنیشنل’ کی جانب سے برقی ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندی کے مطالبات کے باوجود، امریکی کمپنی ایکسن (Axon) نہ صرف اسرائیل کو ٹیزر گنز اور اس کے پرزہ جات کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے بلکہ جون 2025 میں بھی اس کمپنی نے اسرائیل میں ایک سیکیورٹی کانفرنس کے دوران اپنے نئے ترین الیکٹرک شاک ماڈلز کی نمائش کی اور نئے معاہدے کیے۔
اگرچہ اسرائیلی دفاعی فورسز (IDF) کے ترجمان کا دعویٰ ہے کہ قیدیوں پر تشدد کی سخت ممانعت ہے اور یہ تمام کارروائیاں قانون کے دائرے میں کی جاتی ہیں، تاہم سامنے آنے والے شواہد اور رپورٹنگ نے انسانی حقوق کے عالمی اداروں اور اسرائیل کے دہرے معائیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔(سورس دی گارڈئین)
حساس اعضا پر بجلی کے جھٹکے، انسانیت سوز تشدد: اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں پر روح فرسا مظالم کا بھیانک انکشاف

