ویب ڈیسک:
آج کل کی تیز رفتار زندگی اور بدلتے ہوئے طرزِ زندگی میں تولیدی صحت (Reproductive Health) اور فرٹیلیٹی کو بہتر بنانے کے لیے وٹامنز اور سپلیمنٹس کا استعمال فیشن بنتا جا رہا ہے۔ حاملہ ہونے کی کوشش کرنے والے جوڑے ہوں یا ہارمونل توازن برقرار رکھنے کے خواہشمند افراد، ہر کوئی میڈیکل اسٹورز کا رخ کر رہا ہے۔ لیکن کیا یہ سپلیمنٹس واقعی اتنے ضروری ہیں؟ ماہرینِ صحت نے اس حوالے سے اہم اور چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
ماہرین کیا کہتے ہیں؟
ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ ہر انسان کے لیے سپلیمنٹس لینا ہرگز ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کی روزمرہ خوراک متوازن ہے اور اس میں تازہ پھل، سبزیاں، پروٹین اور ہول گرینز مناسب مقدار میں شامل ہیں، تو جسم کو کسی بھی اضافی سپلیمنٹس کی قطعی ضرورت نہیں پڑتی۔
کس صورت میں سپلیمنٹس کی ضرورت پڑتی ہے؟
طبی ماہرین کے مطابق سپلیمنٹس کا استعمال صرف مخصوص حالات میں ہی فائدہ مند ہوتا ہے، مثلاً:
-
غذا میں کسی خاص وٹامن یا منرل کی شدید کمی ہو۔
-
ہارمونل عدم توازن یا کوئی پوشیدہ طبی مسئلہ درپیش ہو۔
-
حمل کی منصوبہ بندی کے دوران فولک ایسڈ (Folic Acid) جیسے انتہائی ضروری اجزاء کی ضرورت ہو۔
اہم ترین سپلیمنٹس اور ان کے فوائد
جب ڈاکٹرز کسی ضرورت کے تحت سپلیمنٹس تجویز کرتے ہیں، تو ان میں عام طور پر درج ذیل شامل ہوتے ہیں:
-
فولک ایسڈ / فولیٹ: حمل کے ابتدائی مراحل میں بچے کی صحت اور پیدائشی نقائص سے حفاظت کے لیے ناگزیر۔
-
وٹامن ڈی: ہارمونز کے توازن اور مرد و خواتین دونوں میں فرٹیلیٹی کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل۔
-
انڈوں اور سپرم کے معیار کو بہتر بنانے اور جسمانی سوزش کو کم کرنے میں مددگار۔
-
تولیدی خلیات کو آکسیڈیٹیو نقصانات سے بچانے والے اجزاء۔
ڈاکٹرز نے خبردار کیا ہے کہ مارکیٹ سے دیکھ کر یا بغیر سوچے سمجھے خود سے سپلیمنٹس کا استعمال فائدے کی بجائے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ خصوصاً کچھ وٹامنز (جیسے وٹامن اے، ڈی، ای اور کے) جسم میں جمع ہو کر زہریلے اثرات بھی پیدا کر سکتے ہیں۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سپلیمنٹس صرف "غذائی قلت کو پورا کرنے کا ایک ذریعہ” ہیں، یہ کسی بھی طرح متوازن غذا کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ لہذا، کسی بھی سپلیمنٹس کو استعمال کرنے سے پہلے اپنے معالج یا گائناکالوجسٹ سے مشورہ ضرور کریں۔

