اسلام آباد (نیوز ڈیسک): وزیراعظم نے ملک میں آٹو موبائل انڈسٹری کی ترقی، الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور مقابلے کی فضا قائم کرنے کے لیے آئندہ پانچ سالہ جدید آٹو پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔
ذرائع کے مطابق نئی آٹو پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کا استعمال بڑھانا اور عام شہریوں کے لیے گاڑیوں کی خریدار ی کو آسان بنانا ہے۔
نئی منظور شدہ پالیسی کے تحت گاڑیوں کی مختلف کیٹیگریز پر سیلز ٹیکس اور ٹیرف کا نیا ڈھانچہ متعارف کرایا گیا ہے:
بیٹری الیکٹرک گاڑیاں (BEVs) پر سیلز ٹیکس کم کر کے محض 1 فیصد کر دیا گیا ہے۔
رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیاں (REEVs) پر سیلز ٹیکس 6 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
پلگ ان ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیاں (PHEVs) پرسیلز ٹیکس 9 فیصد رکھا گیا ہے۔
پالیسی کے ابتدائی 2 سالوں کے دوران 15,000 ڈالر سے کم قیمت والی چھوٹی درآمد شدہ الیکٹرک گاڑیوں پر کسٹم ٹیرف کو کم کر کے صرف 5 فیصد کر دیا گیا ہے، تاکہ عام خریداروں کے لیے ای وی خریدنا ممکن ہو سکے۔
صوبائی و قومی سطح پر مقامی گاڑیوں کی تیاری اور اسمبلی کو فروغ دینے کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے مخصوص غیر مقامی پرزہ جات اور CKD (کمیپلیٹلی ناکڈ ڈاؤن) کٹس کی درآمد پر ٹیرف صرف 1 فیصد رکھا گیا ہے۔
حکومت نے آٹو سیکٹر کو آزاد اور کھلے مقابلے (Open Competition) کے لیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت2030-31 تک CBU (مکمل تیار شدہ گاڑیاں) اور CKD/پرزہ جات پر عائد ٹیرف کو نمایاں طور پر کم کر کے 15 فیصد کی سطح پر لایا جائے گا۔
اس اقدام سے نہ صرف گاڑیوں کی قیمتوں میں پائیدار کمی متوقع ہے بلکہ مقامی اور عالمی آٹو مینوفیکچررز کے درمیان مقابلے کی فضا قائم ہوگی جس کا براہِ راست فائدہ پاکستانی صارفین کو پہنچے گا۔
5سالہ آٹو پالیسی منظور: الیکٹرک گاڑیاں مزید سستی ،شہریوں کی موجیں لگ گئیں

