ٹنڈوالہٰیار (ڈسٹرکٹ رپورٹر تیمور رضا قائم خانی):
ضلع ٹنڈوالہٰیار میں صحت، تعلیم اور بلدیاتی خدمات کی فراہمی کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے! شہریوں کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنے اور ان کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے سٹیزن نیٹ ورک فار بجٹ اکاؤنٹبلٹی (CNBA) کی پارٹنر تنظیم سندھ ہیلتھ اینڈ ایجوکیشن ڈیویلپمنٹ سوسائٹی (شیڈس) کے زیرِ اہتمام ایک سنسنی خیز اور گرما گرم "کمیونٹی اکاؤنٹبلٹی فورم” کا انعقاد کیا گیا۔فورم میں پروگرام آفیسر شیڈس ثنا گلزار سمیت مقامی شہریوں، اساتذہ، طبی ماہرین، بلدیاتی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور سرکاری محکموں کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی۔ شرکاء نے انکشاف کیا کہ سرکاری صحت مراکز میں علاج معالجے کی سہولیات نام کو بھی نہیں ہیں، اسکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری معمول بن چکی ہے، جبکہ پینے کے صاف پانی، صفائی ستھرائی اور نکاسی آب کے ناقص انتظامات نے شہریوں کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں۔تقریب کے دوران شرکاء نے کمیونٹی اسکور کارڈ کا استعمال کرتے ہوئے عوامی خدمات کا جائزہ لیا اور ایک سے پانچ کے پیمانے پر اپنی سخت ناپسندیدگی اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اجتماعی رائے ریکارڈ کی۔ عوامی نمائندگان اور ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ صحت، تعلیم اور بلدیاتی سہولیات محض کاغذی منصوبوں اور انتظامی دعوؤں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں، جن کی حقیقت عام شہری کو ملنے والی سہولت سے عیاں ہوتی ہے۔واضح رہے کہ یہ نیٹ ورک سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز (CPDI) کے زیرِ اثر کام کرتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس عوامی احتساب فورم میں اٹھائے جانے والے ہنگامہ خیز مسائل اور شہریوں کی تڑپ پر متعلقہ سرکاری محکمے کب اور کیا عملی اقدامات اٹھاتے ہیں، کیونکہ عوامی احتساب کا بنیادی تقاضا یہی ہے کہ اب محض باتیں نہیں بلکہ زمینی سطح پر واضح اور مثبت نتائج دکھائی دیں۔

