اوسلو (ویب ڈیسک)
بچوں کی ذہنی صحت اور ڈیجیٹل خطرات کے پیشِ نظر ناروے حکومت نے ایک انتہائی سخت اور تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے بعد اب آن لائن گیمز پر بھی پابندی لگانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس نئے قانون کا مقصد کم عمر بچوں کو خطرناک اسکرین ٹائم اور ذہنی دباؤ سے محفوظ بنانا ہے۔حکام کے مطابق اس پابندی کا دائرہ کار صرف روایتی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ اس میں ایسے تمام گیمنگ اور چیٹنگ پلیٹ فارمز کو بھی شامل کیا جا رہا ہے جو بچوں کی ذہنی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ اس قانون کے تحت ٹک ٹاک (TikTok)، اسنیپ چیٹ (Snapchat) کے ساتھ ساتھ بچوں میں انتہائی مقبول آن لائن گیمنگ کی دنیا ‘روبلوکس’ (Roblox) کو بھی خاص طور پر ہدف بنایا گیا ہے۔وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ حکومت کا بنیادی مقصد بچوں کو ڈیجیٹل نشے، سائ بلینگ اور ذہنی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے اثرات سے بچانا ہے۔ تاہم، حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس پابندی کا اطلاق تمام گیمز پر نہیں ہوگا، اور بچے ایسے محفوظ تعلیمی یا تفریحی پلیٹ فارمز تک رسائی جاری رکھ سکیں گے جنہیں نقصان دہ قرار نہیں دیا گیا۔

