ریاض / نیویارک : مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی کی شدید بحرانی صورتحال اور خلیجی خطے پر یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے تباہ کن ڈرون و میزائل حملوں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید بے چینی اور سراسیمگی پھیل گئی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اچھال دیکھنے میں آیا ہے۔
یمن کے حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کی سب سے اہم اور حساس توانائی تنصیبات، ہوائی اڈوں اور عسکری مراکز کو ایک ساتھ نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے فوراً بعد خام تیل کے سودوں میں تیزی سے قیمتیں اوپر چلی گئیں۔
حوثی ملٹری ترجمان کے بیان کے مطابق، انہوں نے سعودی عرب کے انتہائی حساس انفراسٹرکچر پر ایک بڑا مربوط ڈرون و میزائل حملہ کیا ہے۔ حوثیوں کے مطابق جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ان میں ینبع (Yanbu) میں واقع دنیا کی سب سے بڑی سعودی آئل کمپنی ‘آرامکو’ کی مرکزی تنصیب اور سعودی عرب کی اہم ترین اور بڑی ‘شیبہ آئل فیلڈ’ (Shaybah Oil Field) شامل ہیں جبکہ دارالحکومت ریاض کا کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، ابہا ایئرپورٹ اور مختلف اہم سیکیورٹی و فوجی مراکزی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیاہے۔
اگرچہ سعودی حکام کی جانب سے حوثیوں کے ان دعوؤں پر فوری طور پر نقصان کا کوئی رسمی اور حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم اس خبر نے خام تیل کے خریداروں اور عالمی سرمایہ کاروں میں زبردست تشویش پیدا کر دی ہے۔
خبر آنے سے پہلے سرمایہ کاروں کی جانب سے (Profit Taking) کی وجہ سے برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3 ڈالر سے زائد کی کمی دیکھی جا رہی تھی، لیکن جیسے ہی سعودی عرب پر حملوں کی اطلاعات نشر ہوئیں، مارکیٹ کا رخ یکسر بدل گیا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت میں 1.68 ڈالر کے زبردست اضافے نے منڈیوں میں ہلچل مچا دی۔
اقتصادی و مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک بالخصوص سعودی عرب اور آرامکو کی سپلائی لائن پر مسلسل ڈرون یا میزائل حملوں کا خطرہ قائم رہا تو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید بلند سطح کو چھو سکتی ہیں۔ اس سے ایشیائی اور یورپی معیشتوں میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آ سکتا ہے جو عالمی شرحِ نمو کو شدید متاثر کرے گا۔
حوثی باغیوں کے حملے: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں یکدم 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں

