لندن : برطانیہ کے دنیا بھر میں مشہور اور تاریخی اعلیٰ تعلیمی ادارے ‘ونچسٹر کالج’ (Winchester College) نے جدید ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار کا خاتمہ کرتے ہوئے کلاس رومز کے اندر لیپ ٹاپ کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے اور روایتی طریقہ تدریس یعنی قلم اور کاغذ کو دوبارہ بحال کر دیا ہے۔
برطانوی جریدے کی رپورٹ کے مطابق اسکول انتظامیہ نے پڑھائی کے ماحول کو بہتر بنانے اور طلبہ کی توجہ مرکوز رکھنے کے لیے یہ غیر معمولی فیصلہ کیا ہے۔
ونچسٹر کالج کی سربراہ الزبتھ اسٹون (Elizabeth Stone) نے اس جدید اقدام کی منطق بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسکرین کا مسلسل استعمال اور کلاس میں لیپ ٹاپ کی موجودگی بچوں کی پڑھائی میں خلل ڈالتی ہے اور ان کی توجہ کو بھٹکاتی ہے۔
الزبتھ اسٹون کا کہنا تھا کہ "اگر ہم صرف اسمارٹ فونز پر پابندی لگائیں اور لیپ ٹاپ کھلے رہنے دیں تو بچے وہی تمام سرگرمیاں اور توجہ بھٹکانے والے کام جو فون پر کرتے ہیں، لیپ ٹاپ پر شروع کر دیتے ہیں۔”
انہوں نے اساتذہ کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ جب تک یہ واضح طور پر ثابت نہ ہو کہ کمپیوٹر کے استعمال سے تعلیم میں کوئی بڑا اور نمایاں فائدہ ہو رہا ہے، تب تک کلاس میں ڈیوائسز کا استعمال نہ کروایا جائے۔
کالج انتظامیہ کی نئی پالیسی کے تحت لیپ ٹاپس اور کمپیوٹرز صرف مخصوص اور جدید شعبہ جات جیسے کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، تھری ڈی (3D) ماڈلنگ اور غیر ملکی زبانیں سیکھنے کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ خصوصی ضروریات (Special Needs) کے حامل بچوں کو کلاس روم اور ہوم ورک کے لیے لیپ ٹاپ استعمال کرنے کی بدستور اجازت ہوگی۔
پرنسپل الزبتھ اسٹون نے دعویٰ کیا کہ اسکرینز پر پابندی کے بعد طلبہ کی تعلیمی کارکردگی میں حیران کن بہتری دیکھی گئی ہے۔ بچوں کا نہ صرف پڑھائی میں دھیان اور دلچسپی بڑھی ہے بلکہ وہ اپنا ہوم ورک بھی اب پہلے کے مقابلے میں جلدی ختم کر لیتے ہیں، جس سے انہیں کھیلوں اور دیگر مثبت سرگرمیوں کے لیے وافر وقت مل رہا ہے۔
روایتی دور کی واپسی: کالج میں لیپ ٹاپ اور اسکرینز پر پابندی، قلم اور کاغذ بحال

