لاہور/واشنگٹن:ویب ڈیسک
خلائی سائنس دانوں نے چاند کے حوالے سے انتہائی دلچسپ اور اہم انکشاف کیا ہے کہ ہمارا یہ واحد قدرتی سیارہ آہستہ آہستہ سُکڑ رہا ہے۔ امریکی خلائی ادارے ناسا (NASA) اور دیگر سائنسی اداروں کی حالیہ ریسرچ کے مطابق اربوں سال گزرنے کے باوجود چاند کا اندرونی حصہ (Core) اب بھی ٹھنڈا ہو رہا ہے، جس کے باعث اس کے حجم میں کمی آ رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ چاند کے سکڑنے کی وجہ سے اس کی سخت بیرونی تہہ (Crust) پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے، جس کے نتیجے میں سطح پر فالٹ لائنز، دراڑیں اور جھریاں (Ridges) بن رہی ہیں۔ اس ارضیاتی عمل کے دوران چاند کی سطح پر وقتاً فوقتاً زلزلے (Moonquakes) بھی ریکارڈ کیے جاتے ہیں، جو اس کے مسلسل بدلتے ہوئے ڈھانچے کو ظاہر کرتے ہیں۔سائنس دانوں نے واضح کیا ہے کہ یہ عمل انتہائی سست رفتار ہے، اس لیے اس سے زمین یا خود چاند کو فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ تاہم، مستقبل میں چاند پر انسانوں کی مستقل بستیوں اور خلائی اڈوں کے قیام کے حوالے سے اس تحقیق کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے تاکہ مستقبل کے خلائی مشنز کو محفوظ بنایا جا سکے۔

