تحریر: اشفاق سلہری
عاطف جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
ایک وقت تھا جب ضلع سانگھڑ کو پورے سندھ میں امن و امان کے حوالے سے ایک مثالی اور پرامن ضلع سمجھا جاتا تھا۔ بالخصوص تعلقہ کھپرو اپنی روایتی رواداری، بھائی چارے اور بہترین امن و امان کے باعث ایک پرسکون علاقہ کہلاتا تھا۔ لیکن افسوس کہ گزشتہ کچھ سالوں سے کھپرو کا یہ دیرینہ اور پرامن تاثر تیزی سے زائل ہو رہا ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ جو علاقہ امن کی مثال تھا، وہ جرائم کی آماجگاہ بن چکا ہے اور بدامنی، منشیات فروشی، ڈکیتی، قتل اور اختطاف (اغوا) جیسے سنگین جرائم میں ضلع بھر میں سب سے آگے نکل چکا ہے۔
سنگین جرائم کا تسلسل اور عدم انصاف
کھپرو اور گردونواح میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی گواہی حالیہ چند سالوں میں پیش آنے والے وہ دلخراش واقعات دیتے ہیں جنھوں نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا ہے:
حاجی خدا بخش درس کا قتل: سابق تعلقہ ناظم اور فنکشنل مسلم لیگ کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے سرکردہ رہنما حاجی خدا بخش درس کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود حر جماعت اور ان کے لواحقین آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
سابق صوبائی وزیر کا اغوا اور بھیل نوجوان کا قتل: سابق صوبائی وزیر حسن علی چانیو کے اغوا اور ایک بھیل نوجوان کے بربریت پر مبنی قتل جیسے واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اب کھپرو میں کوئی بھی محفوظ نہیں۔
روزمرہ کی ڈکیتیاں: موٹر سائیکلیں چھیننا، راہزنی اور چوری چکاری اب روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں، جس کے باعث عوام کا سڑکوں پر نکلنا محال ہو چکا ہے۔
معلم عابد علی ہنگورجو کا قتل اور عوامی احتجاج
بدامنی کے اس طوفان میں حال ہی میں اس وقت مزید شدت آئی جب ایک مقامی اسکول ٹیچر عابد علی ہنگورجو نے علاقے میں بڑھتی ہوئی وارداتوں اور جرائم کے خلاف آواز اٹھائی اور شدید مذمت کی۔ حق اور سچ کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں انہیں بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔
اس اندوہناک واقعے نے پورے علاقے میں غصے کی لہر دوڑا دی۔ قاتلوں کی فوری گرفتاری کے لیے شروع ہونے والے مسلسل احتجاجی مظاہروں میں جب حر جماعت باقاعدہ شامل ہوئی تو اس تحریک میں مزید وسعت اور شدت آ گئی۔ اگرچہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے بھی اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی، لیکن محض مذمتی بیانات عوام کے زخموں کا مرہم نہیں بن سکے۔پولیس کا کردار اور سیاسی مداخلت: امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ
عوام کا سب سے بڑا گلہ یہ ہے کہ امن و امان کے قیام میں سب سے بڑی رکاوٹ پولیس افسران پر سیاسی و اقتدار کے ایوانوں سے ڈالا جانے والا دباؤ ہے۔سیکیورٹی کا غلط استعمال: پولیس کے پاس نفری کی پہلے ہی کمی ہے، لیکن اس کے باوجود ٹکٹ ہولڈرز، معززین اور منتخب نمائندوں کی ذاتی سیکیورٹی کے لیے فورسز کے اہلکار فراہم کر دیے گئے ہیں، جس سے عام عوام کے تحفظ کے لیے پولیس کی دستیاب نفری انتہائی محدود ہو چکی ہے۔غیر جانبدارانہ کارروائی میں رکاوٹ: افسران پر من پسند فیصلے کروانے اور مخصوص افراد کو بچانے کے لیے شدید سیاسی دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ جب پولیس افسران کو آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طریقے سے کام کرنے سے روکا جائے گا تو جرائم پیشہ عناصر کے حوصلی کی افزائی ہونا فطری امر ہے۔اگر کھپرو اور ضلع سانگھڑ کے دیرینہ امن کو بحال کرنا ہے تو حکمرانوں اور اعلیٰ حکام کو سخت اور فوری فیصلے کرنا ہوں گے:پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کیا جائے: افسران کو بلا تفریق اور غیر جانبدارانہ کارروائی کرنے کا اختیار دیا جائے۔شہداء کے قاتلوں کی گرفتاری: عابد علی ہنگورجو، حاجی خدا بخش درس اور دیگر تمام مقتولین کے قاتلوں کو فوری طور پر گرفتار کر کے کیفِ کردار تک پہنچایا جائے۔منشیات کے اڈوں کا خاتمہ: جرائم کی جڑ "منشیات کی خرید و فروخت” کے خلاف وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کیا جائے۔اگر اب بھی وقت پر درست اقدامات نہ کیے گئے اور سیکیورٹی فورسز کو غیر سیاسی انداز میں کام نہ کرنے دیا گیا تو سانگھڑ کا امن مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور متعلقہ اربابِ اختیار پر عائد ہوگی۔ایس ایس پی سانگھڑ شاہنواز چاچڑ کو صوبائی حکومت کی اعلی قیادت نے مکمل اختیارات کے ساتھ تعینات کیا گیا تھا وہ مسلسل حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں اب تک جرائم کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے جرائم پیشہ افراد کے خلاف بلاتفریق آپریشن جاری ہے مگر فورسز اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی کمی اور وسائل کی کمی کی وجہ سے کسی نہ کسی مقام پر کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہو جاتا ہے کھپرو کے کچھ علاقوں جن میں کھائی بھی شامل ہے جہاں پہلے سے ہی ذاتی دشمنی کی وجہ سے امن امان کی صورتحال کچھ خراب ہے مزید اس علاقے میں اس طرح واقعات علاقے میں امن قائم کرنے کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں شاہنواز چاچڑ پاور فل اور ذہن افسر ہیں امید کرتے ہیں کہ حالات کو جلد کنٹرول کرلیں گے مگر کچھ لوگ ناراض ہو جائیں گے


