تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
وفاقی بیوروکریسی میں گریڈ 22 کی اہم ترقیوں کے لیے طویل انتظار ختم ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق ہائی پاور سلیکشن بورڈ کا اجلاس آئندہ ماہ نومبر کے وسط میں متوقع ہے، جس میں گریڈ 21 سے گریڈ 22 میں ترقی کے لیے 27 افسران کے کیسز کا جائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعظم کی ہدایات پر اجلاس کے انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔
ہائی پاور سلیکشن بورڈ کا آخری اجلاس مارچ 2025 میں منعقد ہوا تھا، جس کے بعد اعلیٰ ترین سول سروس گریڈ میں ترقیوں کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن ترقی کے اہل افسران کے پینلز منظوری کے لیے وزیراعظم آفس بھجوا چکا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 8، پولیس سروس آف پاکستان کے 6 افسران جن میں آئی جی پنجاب عبدالکریم سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور بھی شامل ہیں اسی طرح سیکرٹریٹ گروپ کے 4، ان لینڈ ریونیو سروس کے ایک اور انفارمیشن گروپ کے ایک افسر سمیت مختلف سروس گروپس کے دیگر افسران کی ترقیوں پر غور کیا جائے گا۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق 25 سے زائد افسران کو گریڈ 22 میں ترقی دینے کی منظوری متوقع ہے۔ اجلاس میں ترقی پانے والے بعض افسران کی اہم انتظامی عہدوں پر تعیناتیوں اور تبادلوں سے متعلق فیصلے بھی کیے جانے کا امکان ہے۔ گریڈ 22 میں ترقی وفاقی بیوروکریسی میں اعلیٰ ترین انتظامی ذمہ داریوں کے تعین کے حوالے سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ ترقیوں کے عمل میں طویل تاخیر کے باعث سینئر افسران میں بے یقینی اور تشویش پائی جاتی رہی ہے، جبکہ اس دوران گریڈ 21 کے متعدد ترقی کے منتظر افسران ریٹائر بھی ہو چکے ہیں۔
"گریڈ 22 کی ترقیوں پر اہم پیش رفت، ہائی پاور بورڈ کا اجلاس آئندہ ماہ”


