اسلام آباد : قومی پارلیمان کے دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بدھ کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی۔
قرارداد وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیش کی، جس پر چار گھنٹے سے زائد وقت تک بحث ہوئی۔ پاکستان تحریک انصاف سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اس کی مخالفت کی۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صدر پاکستان کی منظوری کے بعد صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف نے منگل کو صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف سینیٹ میں قرارداد جمع کروائی تھی، جس میں ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے صوبے کے عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ایوان زیریں میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کو ایوان میں پیش کرنا اور اس کی منظوری حاصل کرنا آئینی تقاضا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ صوبے میں اندرونی بدامنی اور دہشت گردی سے نمٹنے میں صوبائی حکومت کی عدم سنجیدگی کے باعث ہنگامی حالت نافذ کرنے کا فیصلہ ناگزیر ہو گیا تھا۔
اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ گذشتہ ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 3,787 واقعات ریکارڈ کیے گئے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ سکیورٹی کے چیلنجز پر توجہ دینے کے بجائے صوبائی حکومت سیاسی سرگرمیوں کو ترجیح دے رہی تھی۔
وزیر قانون نے کہا کہ گورنر خیبر پختونخوا کو بھی یہ شکایت تھی کہ صوبائی حکومت کی توجہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے بجائے سیاست پر مرکوز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گورنر نے ایک خط کے ذریعے صدر اور وزیر اعظم دونوں کو صورت حال سے آگاہ کیا تھا۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے مکمل غور و خوض کے بعد آخری چارے کے طور پر آئینی اختیار استعمال کرتے ہوئے ہنگامی حالت نافذ کی گئی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اپنے خطاب میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے باعث ہنگامی حالت نافذ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف پوری قوت سے کارروائی کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
فاروق ستار نے اس موقع پر کہا کہ صوبے کی سکیورٹی صورت حال کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کا نفاذ ناگزیر ہو چکا تھا۔
وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے یقین دہانیاں نہ ملنے کے بعد مجبوری کے تحت خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو معاشی ترقی کی راہ پر آگے بڑھانے کے لیے پالیسیوں کا تسلسل اور استحکام ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کسی کو بھی اس عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت نے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں ہنگامی حالت کی ذمہ داری پی ٹی آئی کی قیادت پر عائد ہوتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے اور اس صورت حال میں یہ مشکل مگر آئینی فیصلہ کرنا پڑا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے پورے معاشرے اور ملک کو مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اپوزیشن کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے بعض بنیادی معاملات پر اتفاق رائے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
قومی اسمبلی اور سینٹ کی خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی توثیق

