دل سے متعلق مسئلے کو ہردفعہ بے چینی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں، کیونکہ دونوں کی علامات کافی حد تک ملتی جلتی ہوتی ہیں۔
اچانک دل کی دھڑکن تیز ہوجانا ایک خوف زدہ کردینے والا تجربہ ہوسکتا ہے۔ اکثر لوگ اسے محض ذہنی دباؤ، گھبراہٹ یا پینک اٹیک کا نتیجہ سمجھ کر نظرانداز کردیتے ہیں، تاہم بعض اوقات یہ دل کے برقی نظام میں خرابی کی علامت بھی ہوسکتی ہے، جسے اریتھمیا (Arrhythmia) کہا جاتا ہے۔
مثال کے طور پر ایک نوجوان پیشہ ور کو اکثر اچانک دل کی دھڑکن تیز ہونے کی شکایت رہتی ہے۔ اگر یہ کیفیت کسی دباؤ والی میٹنگ کے دوران، سفر کرتے وقت یا گھر میں خاموشی سے بیٹھے ہوئے بھی پیش آئے تو اسے نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
جے پور کے سی کے برلا ہاسپٹلز کے شعبۂ امراضِ قلب و الیکٹروفزیالوجی کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر شبھم شرما کے مطابق تیز دھڑکن کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، چکر آنا، پسینہ آنا، سینے میں بے چینی یا شدید خوف جیسی علامات بھی ظاہر ہوسکتی ہیں۔ چونکہ یہ علامات گھبراہٹ سے کافی حد تک ملتی جلتی ہیں، اس لیے دل کی دھڑکن سے متعلق کسی اندرونی خرابی کو آسانی سے نظرانداز کیا جاسکتا ہے۔ ان علامات کو سنجیدگی سے لینا ضروری ہے، کیونکہ بعض اقسام کی اریتھمیا کم عمر اور بظاہر صحت مند افراد میں بھی ہوسکتی ہیں۔
دل کی دھڑکن اچانک کیوں بدل جاتی ہے؟
دل کی دھڑکن ایک مربوط برقی نظام کی طرح منظم ہوتی ہے۔ جب اس نظام میں غیر معمولی برقی سگنل پیدا ہونے لگیں تو دل اچانک معمول سے بہت تیز، بہت سست یا بے قاعدگی سے دھڑک سکتا ہے۔ سپراوینٹریکولر ٹیکی کارڈیا ایٹریئل فبریلیشن، ایٹریئل فلٹر اور بعض اقسام کی وینٹریکولر اریٹھمیا ایسی کیفیات ہیں جو دل کی دھڑکن تیز ہونے اور ایسی دیگر علامات کا سبب بن سکتی ہیں جو بظاہر گھبراہٹ سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہیں۔
گھبراہٹ اور اریتھمیا میں فرق کیسے کریں؟
ڈاکٹر شبھم شرما کے مطابق دل کی تیز دھڑکن، سینے میں بے چینی، سانس لینے میں دشواری یا دل کے بہت تیزی سے دھڑکنے کا احساس توجہ طلب ہوسکتا ہے۔ بہت سے افراد کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ علامات گھبراہٹ کی وجہ سے ہیں یا دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی کے باعث۔ یہ الجھن عام ہے، کیونکہ دونوں صورتوں میں جسمانی علامات کافی حد تک ایک جیسی ہوسکتی ہیں۔
گھبراہٹ کی عام علامات میں مسلسل تشویش یا خوف، بے چینی یا ذہنی دباؤ، دل کی تیز دھڑکن، پسینہ آنا، سانس پھولنا، چکر آنا، نیند میں دشواری، تھکن اور حالات اپنے قابو سے باہر محسوس ہونا شامل ہیں۔
طبی نقطۂ نظر سے گھبراہٹ سمپیتھیٹک نروس سسٹم کو متحرک کرتی ہے، جس کے نتیجے میں ایڈرینالین اور کورٹیسول جیسے اسٹریس ہارمونز خارج ہوتے ہیں۔ اس ردعمل کے باعث کچھ وقت کے لیے دل کی دھڑکن اور سانس لینے کی رفتار بڑھ سکتی ہے اور انسان زیادہ چوکس محسوس کرسکتا ہے۔
دوسری جانب ہارٹ اریتھمیا اس وقت ہوتی ہے جب دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے والے برقی سگنلز میں خرابی پیدا ہوجائے۔ اس کے نتیجے میں دل بہت تیزی سے، بہت آہستہ یا بے قاعدگی سے دھڑکنے لگتا ہے۔
اگرچہ دونوں کی علامات ایک جیسی محسوس ہوسکتی ہیں، لیکن ان کے اسباب اور علاج میں نمایاں فرق ہوتا ہے۔ اریٹھمیا کی علامات میں دل کی تیز یا بے قاعدہ دھڑکن، سینے میں پھڑپھڑاہٹ محسوس ہونا، سینے میں درد یا دباؤ، سانس پھولنا، چکر آنا، تھکن، کمزوری اور بعض صورتوں میں بے ہوشی شامل ہوسکتی ہے۔
اگر یہ علامات کئی گھنٹوں تک برقرار رہیں یا آرام کرنے اور سونے کے باوجود ختم نہ ہوں تو یہ تشویش کی علامت ہوسکتی ہیں اور فوری طبی مدد کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
گھبراہٹ اور اریتھمیا کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
ڈاکٹر شبھم شرما کے مطابق ذہنی دباؤ یا گھبراہٹ کے نتیجے میں اسٹریس ہارمونز خارج ہوتے ہیں، جس سے دل کی دھڑکن تیز، زور دار یا بعض اوقات بے ترتیب محسوس ہوسکتی ہے۔ عام طور پر یہ کیفیت چند منٹ سے تقریباً آدھے گھنٹے تک رہ سکتی ہے اور گہری سانس لینے سے اس میں بہتری آسکتی ہے۔
اس کے برعکس اریتھمیا میں دل کے غیر معمولی برقی سگنلز کے باعث دھڑکن بے قاعدہ یا پھڑپھڑاتی ہوئی محسوس ہوسکتی ہے۔ بعض صورتوں میں یہ کیفیت آرام کی حالت میں بھی گھنٹوں یا اس سے زیادہ عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔
دل کی دھڑکن کب تشویش کا باعث بن سکتی ہے؟
دل کی دھڑکن کا ہر بار تیز ہونا کسی سنگین بیماری کی علامت نہیں ہوتا، تاہم بعض صورتوں میں طبی معائنہ ضروری ہوجاتا ہے۔ خاص طور پر اگر
دل کی دھڑکن اچانک تیز ہوکر بار بار شروع اور بند ہو۔
بغیر کسی واضح وجہ کے دھڑکن تیز ہوجائے۔
دھڑکن کے ساتھ بے ہوشی یا بے ہوشی جیسا محسوس ہو۔
شدید چکر آنا یا سانس لینے میں دشواری ہو۔
سینے میں درد یا دباؤ محسوس ہو۔
دل کی دھڑکن کی وجہ سے نیند سے آنکھ کھل جائے۔
ورزش یا جسمانی مشقت کے دوران یہ کیفیت پیدا ہو۔
خاندان میں اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت یا پیدائشی دل کی بیماری کی تاریخ موجود ہو۔
یہ علامات لازماً کسی خطرناک بیماری کی نشاندہی نہیں کرتیں، تاہم یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ دل کی دھڑکن کا اصل پیٹرن کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں سب سے اہم چیز علامات کے دوران دل کی دھڑکن کے پیٹرن کو ریکارڈ کرنا ہے۔
اریتھمیا کی تشخیص مشکل کیوں ہوسکتی ہے؟
ڈاکٹر شبھم شرما کے مطابق کبھی کبھار ہونے والی اریتھمیا کی تشخیص میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ علامات کے درمیان مریض کا ای سی جی بالکل معمول کے مطابق ہوسکتا ہے۔
روٹین ای سی جی سے بعض اوقات دل کی دھڑکن میں بے قاعدگی کا پتہ چل جاتا ہے، لیکن اگر یہ کیفیت کبھی کبھار ہی ہوتی ہو تو طویل مدت تک دل کی نگرانی کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
اس مقصد کے لیے ہولٹر مانیٹر، ایونٹ ریکارڈر، پیچ مانیٹر اور بعض صورتوں میں اسمارٹ واچ یا دیگر قابلِ استعمال برقی آلات مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہ آلات علامات ظاہر ہونے کے دوران دل کی دھڑکن کے پیٹرن کو ریکارڈ کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔
اس لیے اگر ابتدائی ای سی جی کا نتیجہ معمول کے مطابق آئے تو مریضوں کو مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ علامات کے درمیان نارمل ای سی جی کا مطلب یہ نہیں کہ اریٹھمیا موجود نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق اچھی بات یہ ہے کہ دل کی دھڑکن میں پیدا ہونے والی بہت سی بے قاعدگیوں کا مؤثر علاج ممکن ہے۔
(ڈسکلیمر: یہاں فراہم کردہ صحت سے متعلق معلومات اور تجاویز صرف تعلیمی مقاصد کے لیے ہیں۔ ہم یہ معلومات سائنسی تحقیق، مطالعات اور طبی و صحت کے ماہرین کی سفارشات کی بنیاد پر فراہم کرتے ہیں۔ ان تجاویز پر عمل کرنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔)

