تحریر: ریاض ابوالخیل
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
آج کل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی تبدیلی کی افواہیں سیاسی ایوانوں اور عوامی حلقوں میں گردش کر رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ، وزیراعظم یا حکومت کی تبدیلی یقیناً ایک سیاسی عمل ہے اور جمہوری نظام میں یہ کوئی غیر معمولی بات بھی نہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا محض چہروں کی تبدیلی سے عام آدمی کی زندگی میں کوئی نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے؟ کیا ماضی میں آنے والی حکومتوں اور بدلنے والے حکمرانوں نے غریب عوام کی زندگی میں کوئی ایسا مثبت انقلاب برپا کیا، جس کے اثرات آج تک محسوس کیے جا رہے ہوں؟
افسوس کہ اس سوال کا جواب شاید نہیں میں ہی ملے گا۔
اس ملک کا عام آدمی حکومتوں کے آنے جانے سے زیادہ اپنی اجیرن زندگی کے بارے میں فکر مند ہے۔ اسے اس بات سے زیادہ سروکار نہیں کہ اقتدار کی کرسی پر کون بیٹھا ہے، اسے فکر اس بات کی ہے کہ گھر کا چولہا کیسے جلے گا، بچوں کی فیس کہاں سے آئے گی، بجلی اور گیس کے بل کیسے ادا ہوں گے اور روزمرہ زندگی کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے آمدن کہاں سے آئے گی۔
مہنگائی کا دیو آج بھی پوری قوت سے دھاڑ رہا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں اور محدود آمدن رکھنے والا شخص ہر نئے دن کے ساتھ زندگی کی ایک نئی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ کبھی آٹا، کبھی بجلی، کبھی پٹرول اور کبھی ادویات اس کی کمر توڑنے کے لیے کافی ثابت ہوتی ہیں۔ غریب آدمی اپنی ضروریات کم کرتے کرتے اب بنیادی ضرورتوں تک محدود ہو چکا ہے۔
دوسری طرف بے روزگاری نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں تو دے دی ہیں، مگر روزگار کے دروازے بند کر دیے ہیں۔ برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد نوجوان جب نوکری کی تلاش میں در در کی خاک چھانتا ہے تو اس کے خواب آہستہ آہستہ مایوسی میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ یہ صرف ایک نوجوان کی پریشانی نہیں، بلکہ ایک پورے خاندان کی بے چینی اور اضطراب ہے۔
بدامنی نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے۔ جس معاشرے میں انسان اپنے جان و مال کے تحفظ کے بارے میں مطمئن نہ ہو، وہاں ترقی، خوشحالی اور روشن مستقبل کے خواب محض خواب ہی رہ جاتے ہیں۔ امن کے بغیر نہ کاروبار پھلتا ہے، نہ تعلیم آگے بڑھتی ہے اور نہ سرمایہ کاری کے دروازے کھلتے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس صورتِ حال کا ذمہ دار کون ہے؟
کیا ہر مسئلے کا حل صرف حکومت یا وزیر کی تبدیلی ہے؟ کیا ایک چہرے کو ہٹا کر دوسرے چہرے کو کرسی پر بٹھا دینے سے وہ تمام بیماریاں ختم ہو جائیں گی، جو دہائیوں سے ہمارے نظام میں جڑ پکڑ چکی ہیں؟
شاید نہیں۔
اصل ضرورت چہروں کی نہیں بلکہ نظام کی تبدیلی کی ہے۔
ہمیں ایسا مؤثر اور قابلِ عمل نظام درکار ہے جس میں حکمران سے لے کر ایک عام سرکاری اہلکار تک ہر شخص اپنے عمل کے لیے جواب دہ ہو۔ ایسا نظام جہاں احتساب صرف سیاسی مخالفین کے لیے نہ ہو بلکہ ہر اس شخص کے لیے ہو جو قومی وسائل پر بوجھ بن رہا ہے۔ ایسا نظام جہاں سفارش، اقرباپروری اور کرپشن کے بجائے میرٹ کو فیصلہ کن حیثیت حاصل ہو۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مؤثر چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم کیا جائے، جہاں عام شہری کی شکایت محض ایک درخواست بن کر فائلوں میں دفن نہ ہو بلکہ اس کا بروقت ازالہ ہو۔ عدالت، انتظامیہ، پولیس اور دیگر ادارے عام آدمی کے لیے سہولت اور انصاف کا ذریعہ بنیں، خوف اور پیچیدگی کا نہیں۔
ہمیں ایسی پالیسیاں درکار ہیں جو حکومت بدلنے کے ساتھ تبدیل نہ ہوں۔ تعلیم، صحت، روزگار، امن، زراعت، صنعت اور معیشت جیسے بنیادی شعبوں کے لیے طویل المدتی قومی منصوبہ بندی ہونی چاہیے، تاکہ حکومتیں بدلتی رہیں لیکن عوامی فلاح کا سفر نہ رکے۔
عوام کو ہر چند سال بعد نئے نعروں، نئے وعدوں اور نئے چہروں کے بجائے ایک مضبوط، شفاف اور جواب دہ نظام چاہیے۔
کیونکہ بھوکے پیٹ کو یہ تسلی نہیں دی جا سکتی کہ حکمران بدل گیا ہے۔ بے روزگار نوجوان کو صرف یہ بتا دینا کافی نہیں کہ نئی حکومت آ گئی ہے۔ خوف زدہ شہری کو محض سیاسی بیانات سے امن کا احساس نہیں دلایا جا سکتا۔
اس ملک کے غریب عوام کو سیاسی تماشوں سے زیادہ زندگی میں آسانی چاہیے، نعروں سے زیادہ روزگار چاہیے، وعدوں سے زیادہ انصاف چاہیے اور چہروں کی تبدیلی سے زیادہ نظام کی اصلاح چاہیے۔
لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ہر سیاسی بحران کو صرف حکومت کی تبدیلی کے زاویے سے دیکھنے کے بجائے اس بنیادی سوال پر غور کریں کہ ہم ایسا نظام کب بنائیں گے جو حکومتوں سے بالاتر ہو کر عوام کے حقوق، جان و مال، عزت اور مستقبل کا محافظ بن سکے؟
حکومتیں آتی جاتی رہیں گی، چہرے بدلتے رہیں گے، سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی اور جاتی رہیں گی؛ مگر اگر نظام وہی رہا تو عام آدمی کی قسمت کیسے بدلے گی؟
اس لیے ضرورت حکومت کی نہیں، فرسودہ نظام کی تبدیلی کی ہے۔


