پارٹی کی اعلیٰ قیادت اور مقتدرہ کے حلقوں میں سید قاسم علی شاہ کے نام پر اتفاق، جلد پارلیمانی عمل کے آغاز کا امکان
پشاور (انور زیب خان سے)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندرونی فیصلہ سازوں اور طاقتور حلقوں کے درمیان ہونے والے غیر رسمی و خفیہ رابطوں اور اجلاسوں کے بعد خیبر پختونخوا کی وزارتِ اعلیٰ کے لیے سید قاسم علی شاہ کے نام پر اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق، پارٹی کے مرکزی اور صوبائی فیصلہ سازوں نے موجودہ سیاسی صورتِ حال کے پیشِ نظر سید قاسم علی شاہ کو وزارتِ اعلیٰ کے لیے موزوں ترین امیدوار تسلیم کر لیا ہے۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ مقتدرہ کے حلقوں کی جانب سے بھی سید قاسم علی شاہ کا نام قابلِ قبول قرار پایا ہے۔ نام پر اتفاق کے بعد اب معاملے کو طے شدہ سیاسی اور پارلیمانی طریقۂ کار کے تحت آگے بڑھائے جانے کا امکان ہے، تاہم پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا گیا۔
سید قاسم علی شاہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 81 (پشاور-10) سے فروری 2024 کے عام انتخابات میں پہلی بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے۔ تعلیمی لحاظ سے وہ ‘ماسٹرز ان اکنامکس’ کی ڈگری رکھتے ہیں اور پیشے کے اعتبار سے کاروباری شخصیت ہیں۔ وہ پشاور کے ایک معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق صوبائی وزیر سید علی شاہ کے صاحبزادے ہیں۔
تحریک انصاف کے ساتھ ان کا تنظیمی اور عملی سفر درج ذیل ہے:
-
2013: پاکستان تحریک انصاف یوتھ ونگ کے سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے۔
-
2015: بلدیاتی انتخابات میں پشاور کے نائب ناظم منتخب ہو کر بلدیاتی سیاست میں متحرک کردار ادا کیا۔
-
2024: صوبائی حکومت کے قیام پر انہیں پہلے وزیرِ صحت مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے صحت کارڈ جیسے اہم منصوبوں کی نگرانی کی۔ بعد ازاں وہ وزیر برائے سماجی بہبود کے عہدے پر بھی فائز رہے۔
دسمبر 2024 میں تحریک انصاف کی اندرونی احتساب کمیٹی نے اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال سے متعلق شکایات کا جائزہ لینے کے لیے انہیں طلب کیا تھا، جو پارٹی کے اندرونی شفافیت کے عمل کا حصہ تھا۔
حالیہ سیاسی منظرنامے میں بھی وہ خاصے فعال رہے ہیں۔ سال 2026 کے دوران پی ٹی آئی کی سیاسی تحریک اور احتجاجی بیانیے میں ان کے اہم بیانات سامنے آتے رہے۔ اس کے علاوہ، خیبر پختونخوا اسمبلی کے ریکارڈ کے مطابق 25 اگست 2026 کو انہوں نے جنسی جرائم کی روک تھام اور پولیس تفتیش کے نظام کو مضبوط بنانے کے حوالے سے ایوان میں قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔


