اسلام آباد / پشاور: خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج کے نفاذ یا وزیراعلیٰ کی تبدیلی کے حوالے سے وفاق میں زیرِ گردش تجاویز کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے بھی اپنی جوابی حکمت عملی مکمل کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاق اور خیبرپختونخوا حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی و انتظامی کشیدگی کے پیش نظر اسلام آباد میں قانون دانوں اور اعلیٰ سطح پر مختلف آئینی آپشنز، بالخصوص آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت گورنر راج کے نفاذ یا صوبائی اسمبلی میں سیاسی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ان خبروں کے ردعمل میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت اور قانونی ٹیم نے ہر ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے متعدد اقدامات پر اتفاق کیا ہے:کسی بھی ایسے وفاقی اقدام یا گورنر راج کو فوراً عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ) میں چیلنج کیا جائے گا۔ اسمبلی میں عدم اعتماد یا دیگر آئینی تحاریک کی صورت میں پارٹی اپنے اراکین کو متحد رکھنے اور قانون کے مطابق مقابلہ کرنے کے لیے متحرک رہے گی۔وفاقی اقدام کی صورت میں صوبائی و قومی سطح پر سیاسی اور عوامی مزاحمت کا راستہ اپنایا جائے گا
دوسری جانب وفاقی حکومت اور گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ گورنر راج ایک آئینی آپشن تو ہے، تاہم فی الحال تمام تر توجہ امن و امان اور آئین و قانون کی بالادستی قائم رکھنے پر مرکوز ہے۔

