پاور سیکٹر کے فکسڈ اخراجات پورا کرنے اور سسٹم کے استحکام کے لیے نیپرا اور پاور ڈویژن کی جانب سے ہائی رائز بلڈنگز، تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے نیا فریم ورک تیار کرنے پر غور۔
اسلام آباد (نیوز ڈیسک):
حکومت اور قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر میں مالی توازن قائم کرنے اور نیشنل گرڈ کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے بلند عمارتوں (High-Rise Buildings)، بڑے تجارتی مراکز اور صنعتی صارفین کے لیے نئے "گرڈ شیئرنگ چارجز” (Grid Sharing Charges) عائد کرنے کی تجویز تیار کی ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ اقدام ان صارفین کے لیے تجو یز کیا جا رہا ہے جو سولر نیٹ میٹرنگ، کیپٹو پاور یا دیگر متبادل ذرائع سے اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں، لیکن ہنگامی صورت حال، رات کے اوقات یا اضافی ڈیمانڈ کے لیے گرڈ کے انفراسٹرکچر پر انحصار قائم رکھتے ہیں۔
-
انفراسٹرکچر کے اخراجات میں شراکت: گرڈ کی دیکھ بھال، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے اخراجات کو تمام صارفین میں منصفانہ طور پر تقسیم کرنے کے لیے فکسڈ یا شیئرنگ چارجز لاگو کیے جائیں گے۔
-
بلند عمارتوں پر اطلاق: ملٹی اسٹوری عمارتوں اور کمرشل پلازوں میں جہاں مشترکہ سولر یا متبادل پاور سسٹمز نصب ہیں، وہاں گرڈ سے جڑی سیکیورڈ کیپیسٹی کے تناسب سے چارجز کا تعین ہوگا۔
-
صنعتی صارفین کے لیے فریم ورک: ایسے صنعتی یونٹس جو اپنے کیپٹو پاور پلانٹس یا سولر سسٹمز کے ساتھ ساتھ گرڈ کنیکشن بھی برقرار رکھتے ہیں، ان کے لیے گرڈ یوزج اور بیک اپ صلاحیت کا جائزہ لے کر نئے ریٹ مقرر کیے جائیں گے۔
-
اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت: نیپرا کی جانب سے اس تجو یز پر حتمی فیصلے سے قبل صنعتی و تجارتی تنظیموں اور عام صارفین کے ساتھ پبلک ہیئرنگ کی جائے گی تاکہ تمام تحفظات کا جائزہ لیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی کا مقصد نیشنل گرڈ کو درپیش مالی دباؤ اور ‘کپیسٹی پیمنٹس’ کے بوجھ کو کم کرنا ہے، تاہم تجارتی اور صنعتی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان چارجز کو متوازن رکھا جائے تاکہ پیداواری لاگت متاثر نہ ہو۔

