نئی دہلی:بھارت میں بے روزگاری کے ستائے ہوئے اور پسے ہوئے طبقات کی نمائندہ ابھرتی ہوئی سیاسی جماعت ’کاکروچ پارٹی‘ کی سخت دباؤ کی حکمتِ عملی کامیاب ہو گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹوں میں مبینہ ردوبدل اور لاکھوں ووٹرز کے نام غائب کیے جانے کے اسکینڈل پر ملک گیر احتجاج کی کال کے بعد بالآخر الیکشن کمیشن نے لسٹوں کا جائزہ لینے کا باضابطہ حکم جاری کر دیا ہے۔
کاکروچ پارٹی نے الزام عائد کیا تھا کہ الیکشن کمیشن کے سربراہ گینیش کمار مبینہ طور پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کو انتخابات میں فائدہ پہنچانے کے لیے ووٹر لسٹوں میں منظم دھاندلی کر رہے ہیں تاکہ حکومت مخالف ووٹرز کو ان کے حقِ رائے دہی سے محروم کیا جا سکے۔ اس سنگین صورتحال کے خلاف پارٹی نے کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے 2 اکتوبر سے ملک بھر میں شدید احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے دباؤ کے پیشِ نظر کمیشن کو پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ پچھلے دس ماہ کے دوران ماتحت الیکشن کمشنرز کی جانب سے کم از کم 14 بار سربراہ کو اس بات سے متنبہ کیا گیا تھا کہ لسٹوں میں کی جانے والی تبدیلیاں لاکھوں بھارتی شہریوں کو ووٹ کے حق سے محروم کر رہی ہیں، تاہم ان تنبیہات کو مسلسل نظر انداز کیا گیا۔
اگرچہ الیکشن کمیشن نے اب یہ جائزہ لینے کا حکم دے دیا ہے کہ آیا یہ ووٹر لسٹیں مروجہ قوانین کے مطابق ہیں یا نہیں، لیکن سیاسی حلقوں اور مبصرین کی طرف سے یہ بنیادی سوال اب بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ کمیشن اس معاملے کو بھارتی آئین کے تحت شہریوں کے بنیادی حقِ رائے دہی اور جمہوری اصولوں کے تناظر میں دیکھنے سے گریز کیوں کر رہا ہے۔ کاکروچ پارٹی کے اس احتجاج نے بھارتی سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچا دی ہے اور شفاف انتخابات پر ایک بار پھر بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
کاکروچ پارٹی کی دھمکی رنگ لے آئی: الیکشن کمیشن کا ووٹر لسٹوں میں مبینہ گھپلوں پر تحقیقات کا حکم

