سگریٹ نوشی چھوڑنے کے بعد جسم سے زہریلی گیسیں اور نکوٹین چند دنوں میں خارج ہو جاتی ہیں، جبکہ پھیپھڑوں کی مکمل صفائی، ساخت کی بحالی اور بیماریوں کے خطرات میں کمی کا عمل چند مہینوں سے لے کر 10 سے 15 سال تک جاری رہتا ہے۔
پھیپھڑوں کی تدریجی بحالی کا ٹائم لائن درج ذیل ہے:
-
ابتدائی چند دن (زہریلے مادوں کا اخراج):
-
8 سے 12 گھنٹے: خون میں کاربن مونو آکسائیڈ کی مقدار نارمل سطح پر آ جاتی ہے اور آکسیجن کی مقدار بہتر ہوتی ہے۔
-
48 گھنٹے: نکوٹین جسم سے مکمل طور پر خارج ہو جاتی ہے۔ چکھنے اور سونگھنے کی حس میں بہتری آنے لگتی ہے۔
-
-
چند ہفتے سے 9 ماہ (پھیپھڑوں کی خودکار صفائی):
-
2 ہفتے سے 3 ماہ: پھیپھڑوں کی کارکردگی اور خون کی گردش میں نمایاں بہتری آتی ہے۔
-
1 سے 9 ماہ: پھیپھڑوں کے اندر موجود باریک بال نما ساختیں (Cilia) دوبارہ بننا اور فعال ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ یہ ساختیں پھیپھڑوں میں جمع شدہ بلغم، دھول اور زہریلے ذرات کو باہر دھکیلتی ہیں، جس سے کھانسی اور سانس پھولنے کی شکایت کم ہو جاتی ہے۔
-
-
طویل المدتی بحالی (1 سے 15 سال):
-
1 سال: دل کے دورے اور شریانوں کی بیماریوں کا خطرہ آدھا رہ جاتا ہے۔
-
10 سال: پھیپھڑوں کے کینسر سے موت کا خطرہ سگریٹ نوشی جاری رکھنے والوں کے مقابلے میں 50 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
-
15 سال: دل کی بیماریوں اور کینسر کا مجموعی خطرہ تقریباً ایک ایسے شخص کے برابر ہو جاتا ہے جس نے کبھی سگریٹ نہ پی ہو۔
-
اگر سگریٹ نوشی کے باعث پھیپھڑوں کے بافتوں (Tissues) کو دائمی نقصان یا داغ (Emphysema / COPD) نہ پہنچا ہو تو پھیپھڑے خود کو کافی حد تک صحت مند حالت میں واپس لے آتے ہیں۔ تاہم، برسوں کی شدید سگریٹ نوشی سے ہونے والا مستقل سٹرکچرل نقصان مکمل طور پر پہلے جیسا نہیں ہو سکتا، لیکن سگریٹ چھوڑنے سے مزید نقصان فوری طور پر رک جاتا ہے۔

