پیرس:کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو (Pope Leo) نے اپنے تین روزہ دورۂ فرانس کے آغاز پر مصنوعی ذہانت (AI) کے انسانیت پر پڑنے والے منفی اثرات کے خلاف شدید انتباہ جاری کیا ہے۔ فرانس کے صدارتی محل (Élysée) میں اپنے افتتاحی خطاب کے دوران انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہم نے احتیاط نہ کی تو ایک ایسی "مشینوں کی جنت” میں گھر جائیں گے جہاں انسان اپنی بنیادی انسانیت اور اخلاقی شناخت کھو بیٹھے گا۔
🇫🇷🇻🇦 The Paris clip looks like a concert for a prayer night with the Pope
Leo XIV’s youth vigil filled the Stade de France with lights, music, and a slow procession, and the stands stayed on their feet.
A lot of those kids could have been anywhere on a Friday.
They picked…
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) September 26, 2026
پوپ لیو کا کہنا تھا کہ اس بات کی انتہائی ضرورت ہے کہ لوگوں کو اخلاقی بصیرت کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ اس بات کا ادراک کر سکیں کہ کیا چیز اخلاقی طور پر درست ہے ۔
سالہ پوپ نے اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو (Unesco) کے پیرس میں واقع ہیڈ کوارٹر سے اپنے دوسرے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ نئی ٹیکنالوجیز کو غلبہ اور ناانصافی کا آلہ بننے کے بجائے ہر حال میں انسانوں کی خدمت کے لیے وقف رہنا چاہیے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ جب سائنس بغیر اخلاقیات کے آگے بڑھتی ہے تو وہ اپنا اصل مقصد کھو دیتی ہے۔
پوپ نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر سسٹمز کو انسانی سوچ یعنی "انٹیلی جنس” کا نام دیا جا رہا ہے، تو دوسری طرف انسانوں کے آپسی تعلقات اور خیالات زوال کا شکار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج انسانی معاشرے میں انسانوں کی بنیادی عزت اور وقار کو صرف ان کی پیداواری صلاحیت اور کارکردگی کی بنیاد پر تولا جا رہا ہے، اور جب کوئی انسان اس معیار پر پورا نہیں اترتا تو اسے بیکار سمجھ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔
اپنے اس دورے کے دوران پوپ لیو نے عالمی رہنماؤں کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا جو قانون کی حکمرانی کا احترام نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ قانون کو صرف اس وقت یاد کرتے ہیں جب وہ ان کے مفاد میں ہو، اور جب قانون ان کے سامنے رکاوٹ بنے تو وہ اسے نظر انداز کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ انصاف کو بھی ایک خریدی اور بیچی جانے والی شے بنا دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ پوپ لیو، جو 2025 میں اس منصب پر فائز ہوئے تھے، اس سے قبل بھی عالمی سیاست اور ڈکٹیٹرشپ کے رویوں پر کھل کر تنقید کرتے رہے ہیں۔

