واشنگٹن:عالمی سطح پر تہلکہ مچانے والے سائبر حملے میں بدنام زمانہ ہیکنگ گروپ ‘شائنی ہنٹرز’ (ShinyHunters) کی جانب سے ایف بی آئی (FBI) کے چرائے گئے ڈیٹا سے متعلق ہوش اڑا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
غیرملکی خبر رساں ایجنسی کی جانب سے دیکھی گئی دستاویزات اور ہیکرز کے دعوے کے مطابق، اس سکیورٹی بریچ میں صرف حساس پیشہ ورانہ معلومات ہی نہیں بلکہ ایف بی آئی کے ملازمین کے انتہائی خفیہ نفسیاتی (Psychiatric) اور طبی (Medical) معائنے کے ریکارڈز بھی چوری ہو چکے ہیں، جس نے امریکی انٹیلی جنس حلقوں میں کھلبلی مچا دی ہے۔
گزشتہ منگل کو دنیا کے سب سے طاقتور انٹیلی جنس ادارے پر دھاوا بولنے والے اس ہیکنگ گروپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایف بی آئی کی جابز ڈاٹ گُو اے وی (FBIjobs.gov) ویب سائٹ سے 2 سے 3 ٹیرا بائٹ ڈیٹا چوری کیا ہے۔ اس ڈیٹا میں چینی جاسوسوں، روسی انٹیلی جنس اور منشیات کے کارٹلز کے خلاف جاری اہم ترین کارروائیوں کی تفصیلات بھی شامل تھیں۔ اب اس میں میڈیکل اور ذہنی صحت کی رپورٹس کا انکشاف اس معاملے کو ایک سنگین انسدادِ جاسوسی (Counterintelligence) خطرے میں تبدیل کر رہا ہے۔
سائبر سکیورٹی کنسلٹنسی ’نیکشور اے آئی‘ کے بانی اور سابق ایف بی آئی آپریٹو ایرک اونیل نے وارننگ دی ہے کہ طبی اور نفسیاتی ڈیٹا کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ ہیکنگ 2015 کے اس تاریخی اسکینڈل جتنی بڑی ہے جس میں لاکھوں امریکیوں کی حساس معلومات افشا ہو گئی تھیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ ڈیٹا بیرونی اور دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے لیے ایک مقناطیس کی طرح ہے: "مجھے سخت حیرت ہوگی اگر روسی انٹیلی جنس اب تک شائنی ہنٹرز کے دروازے پر دستک نہ دے چکی ہو کہ ہمیں یہ مواد چاہیے، اسے ہمارے حوالے کرو۔”
دوسری جانب، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ہیکرز کی جانب سے جاری کردہ نمونے میں خون اور پیشاب کے ٹیسٹ کی دستاویزات بھی شامل تھیں۔ ایف بی آئی نے اس واقعے پر براہ راست کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے تاہم جمعرات کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں ادارے کا کہنا تھا کہ وہ اس بڑے سائبر حملے کی "انتہائی جارحانہ انداز میں تحقیقات” کر رہا ہے۔ یہ سکیورٹی لیک امریکی تاریخ کے سب سے بڑے انٹیلی جنس بحرانوں میں شمار ہونے لگا ہے۔
بڑا سکیورٹی اسکینڈل: ہیکرز نے ایف بی آئی اہلکاروں کی خفیہ طبی ،نفسیاتی رپورٹس چرائیں، دشمن ممالک کی رال ٹپک گئی

