واشنگٹن:امریکا اور چین کے درمیان کشیدہ تعلقات میں برف پگھلانے اور دوستی کو فروغ دینے کے لیے بیجنگ نے ایک بار پھر اپنی روایتی "پانڈا ڈپلومیسی” کا آغاز کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے تین روزہ سرکاری دورے پر موجود چینی صدر شی جن پنگ نے جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اعلان کیا کہ چین اٹلانٹا زو (Zoo Atlanta) کو دو نئے پانڈے بھیجے گا، جنہیں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان "دوستی کے سفیر” قرار دیا۔
یہ نرم سفارت کاری (Soft Power) ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں رہنماؤں کے درمیان مصنوعی ذہانت (AI)، معاشی تعلقات اور اہم معدنیات جیسے حساس امور پر اعلیٰ سطحی مذاکرات جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس دورے کے دوران چینی صدر کا جوائنٹ بیس اینڈریوز پر خود استقبال کیا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان قائم تعلقات کو ایک "حقیقی اور عظیم دوستی” سے تعبیر کیا۔ اٹلانٹا زو نے تصدیق کی ہے کہ چین کے شہر چینگڈو سے تعلق رکھنے والے ان نر اور مادہ پانڈوں (پنگ پنگ اور فو شوانگ) کی آمد کا معاہدہ رواں سال اپریل میں طے پا گیا تھا، اور یہ 2024 میں سابقہ پانڈوں کی واپسی کے بعد اس زو میں پہلے پانڈے ہوں گے۔
پانڈا ڈپلومیسی کی تاریخی اہمیت:
بین الاقوامی تعلقات میں چین طویل عرصے سے پانڈوں کو خیر سگالی کے اشارے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ ماضی میں واشنگٹن کے نیشنل زو سے پانڈوں کی واپسی کے بعد کشیدگی دیکھی گئی تھی، تاہم نئے معاہدوں کے تحت ان کی واپسی کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے۔ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو اس روایت کا آغاز 1972 میں صدر نکسن کے تاریخی دورہ چین کے دوران ہوا تھا، جب امریکی خاتونِ اول نے چینی رہنماؤں کے سامنے پانڈوں سے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد سے یہ پیارے جانور امریکہ اور چین کے تعلقات میں خوشگوار موڑ کی علامت بن چکے ہیں۔
FROM CHINA WITH LOVEپانڈا ڈپلومیسی بحال: چینی صدر کا اٹلانٹا زو کے لیے دو نئے پانڈے تحفہ دینے کا اعلان

