تحریر :اسد مرزا
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مجوزہ احتجاج کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی احتجاجی قافلے کی پیش قدمی کو فوری طور پر مکمل کرنے کے بجائے کئی روز تک مرحلہ وار اور سست رفتاری سے آگے بڑھانے کی حکمت عملی اختیار کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد سیکیورٹی انتظامات پر تعینات پولیس و دیگر اہلکاروں کی طویل ڈیوٹی کے باعث انتظامی دباؤ میں اضافہ کرنا ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسلام آباد، راولپنڈی اور اٹک سمیت مختلف علاقوں میں مجموعی طور پر تقریباً 65 ہزار اہلکاروں کی تعیناتی یا اضافی نفری کے انتظامات کیے جا چکے ہیں، جبکہ اسلام آباد میں 22 ہزار سے زائد اہلکاروں کی تعیناتی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق اگر قافلے کی رفتار دانستہ طور پر سست رکھی گئی اور احتجاج کئی روز تک جاری رہا تو سیکیورٹی اہلکاروں کی مسلسل تعیناتی، اضافی لاجسٹک اخراجات اور معمول کی پولیسنگ متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک اور ملحقہ علاقوں میں ٹریفک، کاروباری سرگرمیوں اور سامان کی ترسیل بھی متاثر ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں پی ٹی آئی کا مرکزی قافلہ اسلام آباد کی جانب روانہ ہونے کی تیاری کر رہا ہے، جبکہ پارٹی نے 27 ستمبر کے احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے ہیں اور پنجاب کی جانب سے راولپنڈی، اٹک، جہلم اور میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی کے لیے وفاق سے درخواست بھی کی گئی ہے۔ احتجاج کی صورت میں سیاسی سرگرمی اور شہریوں کی نقل و حرکت کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے گا، جبکہ طویل سیکیورٹی تعیناتی ریاستی وسائل اور معمول کی انتظامی سرگرمیوں پر کس حد تک اثر انداز ہوتی ہے۔
اسلام آباد احتجاج؛ ایک ہفتے کی تاخیر سے سیکیورٹی پلان دباؤ میں آنے کا امکان


