سرینگر : محکمہ صحت اور طبی تعلیم کے مطابق مقبوبضہ جموں و کشمیر میں تقریباً 5,753 ڈینٹل سرجن بے روزگار کے طور پر درج ہیں۔ ایسے میں بھرتی منظور شدہ آسامیوں کے خلاف اور مقررہ طریقہ کار اور دستیاب آسامیوں کے مطابق کی گئی ہے۔
محکمہ نے یہ انکشاف ڈینٹل سرجنز کی ملازمت ،، گورنمنٹ ڈینٹل کالج اینڈ اسپتال سرینگر میں خالی اسامیوں اور ادارے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے بارے میں ایم ایل اے شمیم فردوس کی جانب سے اسمبلی میں اٹھائے گئے سوال کے جواب میں کیا گیا
تاہم حکومت نے کہا کہ یہ دعویٰ کہ 2008 کے بعد سے ڈینٹل سرجننز کے لیے کوئی بھرتی کا عمل یا مہم نہیں چلائی گئی۔ اس میں کہا گیا ہے بھرتی کا عمل مقررہ بھرتی کے طریقہ کار اور آسامیوں کی دستیابی کے مطابق کی جاتی ہے۔گورنمنٹ ڈینٹل کالج اینڈ اسپتال سرینگر میں رپورٹ کی کمی پر محکمہ نے کہا کہ ادارے کے لیے ڈینٹل سرجنز کی کوئی پوسٹ خاص طور پر منظور نہیں کی گئی ہے۔
حکومت نے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ سرینگر ڈینٹل کالج کے بنیادی ڈھانچے کو 2010 سے توسیع نہیں کی گئی ہے۔ اس تعلق سے کہا گیا ہے کہ سال 2010 کے بعد سے مذکورہ طبی ادارے کی تعلیمی، طبی اور مریضوں کی دیکھ بھال کی ضروریات کے پیش نظر کافی ترقی، تزئین و آرائش اور توسیع عمل میں لائی گئی ہے۔ جس میں2010 سے شروع کیے گئے بڑے منصوبوں میں لائبریری بلاک کی تعمیر ہے جس کی کُل تخمینہ لاگت 478.84 لاکھ روپے ہے جس پر 474.83 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔وہیں253.45 لاکھ روپے کے اخراجات کے ساتھ 281 لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت سے آگ بجھانے کا نظام نصب کیا گیا تھا۔
پہلے اور دوسرے مرحلے کے تحت ایک اضافی بلاک کی تعمیر بالترتیب 734.71 لاکھ روپے اور 419.85 لاکھ روپے کی تخمینی لاگت سے کی گئی۔ پہلے مرحلے پر خرچ 678.21 لاکھ روپے رہا، جبکہ دوسرے مرحلے پر اگست 2026 تک 352.77 لاکھ روپے خرچ کیے گئے۔ حکومت نے کہا ک دوسرے مرحلے کا کام جاری ہے اور 2026 کے آخر تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
ایک ایفلوئنٹ ٹریٹمنٹ پلانٹ 164.05 لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت سے قائم کیا گیا جس میں 120.24 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ پراستھوڈانٹک کے محکمے کی توسیع پر 75 لاکھ روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔جس کے مقابلے میں 44.7 لاکھ روپے خرچ کیے گئے تھے۔ جبکہ کالج کو 185 لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت سے 143.97 لاکھ روپے کے اخراجات کے ساتھ ایک سی سی ٹی وی نگرانی کا نظام بھی ملا۔وہیں ایڈمنسٹریٹو بلاک کے اضافے، تبدیلی اور توسیع پر 151.32 لاکھ روپے کی تخمینہ لاگت کی گئی تھی۔جس میں اگست 2026 تک 74.97 لاکھ روپے خرچ کیے گئے تھے۔
محکمہ نے کہا کہ یہ کام گورنمنٹ ڈینٹل کالج اینڈ اسپتال سرینگر کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور جدید بنانے اور طلباء، مریضوں اور عملے کے لیے سہولیات کو بہتر بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہیں۔ڈینٹل سرجنوں کو ملازمت دینے اور ایک مقررہ مدت کے اندر اسامیوں کو پُر کرنے کے لیے خصوصی بھرتی مہم کے مطالبے پر حکومت نے کہا کہ سرینگر ڈینٹل کالج میں 48 خالی آسامیوں سے متعلق بنیاد غلط ہے کیونکہ ادارے کے لیے خاص طور پر ڈینٹل سرجن کی کوئی پوسٹ منظور نہیں کی گئی تھی۔
اس میں کہا گیا ہے کہ سرکاری صحت کے اداروں میں ڈینٹل سرجننز کی ضرورت کا وقتاً فوقتاً منظور شدہ آسامیوں، موجودہ آسامیاں، مریضوں کے بوجھ، فنکشنل ضروریات اور انفراسٹرکچر کی دستیابی کی بنیاد پر اندازہ لگایا جاتا ہے۔

