ایک حساس دفاعی رپورٹ اور مشقوں کے نتائج کے مطابق، امریکی فوج کی جانب سے مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید الگورتھمز اور فیصلے کرنے والے سسٹمز کا استعمال ایک فرضی جنگی مشق (War Game) کے دوران اس کے لیے بڑا خطرہ بن گیا۔ اگر بروقت انسان مداخلت نہ کرتے تو AI سسٹمز کے غلط اندازوں کے باعث امریکی فورسز چین کے خلاف شدید سفارتی اور عسکری بحران کا شکار ہو سکتی تھیں۔
امریکی دفاعی حکام اور عسکری ماہرین کی جانب سے چین کے ساتھ ممکنہ تنازع (خصوصاً تائیوان کی صورتحال) پر مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کا جائزہ لینے کے لیے ایک جدید سیمولیشن سسٹم کے تحت مشق کی گئی۔ اس مشق کا مقصد یہ دیکھنا تھا کہ اے آئی کس طرح ریئل ٹائم ڈیٹا کا تجزیہ کر کے فیصلے کرتی ہے۔
-
مصنوعی ذہانت نے کشیدگی کم کرنے کے بجائے چینی پیش قدمی کے جواب میں انتہائی شدید عسکری اقدامات کی تجویز دی، جو عملی طور پر ایٹمی یا ہمہ گیر جنگ کو دعوت دینے کے مترادف تھے۔
-
AI نے چین کے عسکری تحرک کا غلط اندازہ لگایا اور اسے براہِ راست حملے کے خطرے کے طور پر ڈیکوڈ کیا، جس کی بنا پر فوراً بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کا مشورہ دیا۔
-
ماڈل نے چینی فوج کے دفاعی اشاروں کا درست تجزیہ کرنے کے بجائے ڈیٹا کے ایک محدود حصے پر انحصار کر کے غلط کارروائی کا منصوبہ تیار کیا۔
خوش قسمتی سے یہ ایک فرضی مشق تھی اور کمانڈ کنٹرول مکمل طور پر امریکی فوجی جنرلز اور ماہرین کے ہاتھوں میں تھا۔ افسران نے اے آئی کے تجویز کردہ اقدامات اور حکمتِ عملی کو فوری طور پر مسترد کر دیا، جس کی وجہ سے امریکی فوج ایک بڑی عسکری ناکامی اور چین کے ساتھ حقیقی جنگ کے خطرے سے بال بال بچ گئی۔
اس واقعے کے بعد پینٹاگون اور عسکری سائنسدانوں میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت جنگی منصوبہ بندی اور ڈیٹا کی دیکھ بھال میں مددگار ہے، لیکن حتمی اور حساس عسکری فیصلے مکمل طور پر AI پر نہیں چھوڑے جا سکتے۔ انسانی عقل، تجربہ اور حکمتِ عملی ہی کسی بھی بڑی جنگی تباہی کو روکنے میں سب سے اہم بنیاد رہے گی۔

