تحریر :محمد اشفاق
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
موجودہ عالمی حالات اور سیاسی منظر نامے پر ایک انتہائی سنسنی خیز، جامع اور فل کیچی ٹائٹل کے ساتھ فیس بک پوسٹ تیار ہے، جو قارئین کو آخر تک پڑھنے اور شیئر کرنے پر مجبور کر دے گی:
مشرق وسطیٰ کا نیا طوفان: حوثی باغی کیوں خونریز حملے کر رہے ہیں اور اس میں پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
دنیا ایک بار پھر ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑی ہے جہاں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پوری عالمی معیشت اور سکیورٹی کو ہلا کر رکھ رہی ہے۔ یمن کے حوثی باغی ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں، سعودی عرب اور خطے کے دیگر ممالک نشانے پر ہیں، اور ہر طرف یہی سوال گونج رہا ہے کہ آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے اور اس میں پاکستان کا کیا کردار ہے؟
آئیے جانتے ہیں اس پیچیدہ اور خطرناک کھیل کا پورا سچ!
🇾🇪 حوثی باغی کون ہیں اور یہ حملے کیوں کر رہے ہیں؟
* پس منظر: حوثی (انصار اللہ) یمن کا ایک مسلح شیعہ (زیدی) گروہ ہے جو پچھلے کئی سالوں سے یمن کی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہے۔
* سعودی عرب سے دشمنی: سن 2015 سے سعودی عرب کی قیادت میں ایک عسکری اتحاد یمن میں حوثی اثرورسوخ کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اسی کشیدگی کی وجہ سے حوثیوں نے ماضی میں سعودی عرب کے تیل کے تنصیبات (جیسے آرامکو) اور شہروں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے۔
* فلسطین اور بحیرہ احمر کا محاذ: حالیہ مہینوں میں حوثیوں نے غزہ کی صورتحال اور فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے نام پر بحیرہ احمر (Red Sea) میں بین الاقوامی تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی تجارت کو شدید دھکا لگا ہے۔
💥 اب تک حوثی باغیوں نے کیا کر لیا ہے؟
* عالمی تجارت کو مفلوج کرنا: حوثیوں نے جدید میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے دنیا کے سب سے اہم بحری گزرگاہ (باب المندب) کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے بڑی شپنگ کمپنیوں کو افریقہ کا طویل چکر کاٹنا پڑ رہا ہے۔
* فضائی دفاعی نظام کا امتحان: انہوں نے کئی بار سعودی عرب اور خطے کے اتحادی ممالک کے فضائی دفاعی نظام (Air Defense Systems) کو میزائل حملوں سے چیلنج کیا ہے، جس کے جواب میں جوابی فضائی حملے بھی کیے جا رہے ہیں۔
🇵🇰 اس تمام صورتحال میں پاکستان کا کیا موقف اور ایکشن ہے؟
* متوازن اور اصول پر مبنی پالیسی: پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے واضح رہی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یمن کے تنازع میں سیاسی اور سفارتی حل پر زور دیا ہے اور کسی بھی بڑی جنگ کا حصہ بننے سے گریز کیا ہے۔
* سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں: پاکستان نے ماضی میں بھی اور اب بھی ہمیشہ اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ حرمین شریفین اور سعودی عرب کی جغرافیائی سالمیت اور سکیورٹی کے لیے پاکستان کا مؤقف بالکل واضح ہے؛ سعودی عرب کی سلامتی پر کوئی آنچ آئی تو پاکستان سفارتی اور دفاعی سطح پر اپنے دیرینہ برادر اسلامی ملک کے ساتھ کھڑا ہوگا۔
* خطے میں امن کی کوششیں: پاکستان کی کوشش رہی ہے کہ مسلم دنیا میں مزید خلیج پیدا نہ ہو اور تمام فریقین بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔
> ایک اہم نکتہ: یہ تنازع صرف چند میزائل حملوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے تیل کی سیاست، عالمی طاقتوں کی رسہ کشی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا ہوا نقشہ چھپا ہے۔
>
🤔 آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا حوثی باغیوں کے یہ حملے خطے کو ایک بڑی عالمی جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں؟ کیا پاکستان کو اس معاملے میں کھل کر کوئی کردار ادا کرنا چاہیے؟ اپنے خیالات نیچے کمنٹ سیکشن میں ضرور شیئر کریں!


