صنعا / عدن:یمن میں سرگرم حوثی باغیوں نے دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک باب المندب میں واقع اسٹریٹجک اہمیت کے حامل پیرم جزیرے (Perim Island) پر مکمل قبضہ کر لیا ہے، جس سے اس اہم آبی گزرگاہ پر ان کا کنٹرول مزید وسیع ہو گیا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے آتش فشاں جزیرے پر اس وقت کنٹرول حاصل کیا جب اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ اور عدن میں قائم سرکاری حکومت کی اتحادی افواج وہاں سے پیچھے ہٹ گئیں۔ یمن کے مغربی ساحل پر حالیہ دنوں میں حکومت کو مسلسل جھٹکے لگے ہیں، جن میں جمعرات کے روز اہم بندرگاہی شہر المخا کا زوال بھی شامل ہے۔ سرکاری حکومت کے پشت بان سعودی عرب نے المخا میں حوثی پوزیشنز پر شدید فضائی حملے بھی کیے ہیں مگر حوثیوں کی پیش قدمی کو روکا نہیں جا سکا۔
باب المندب کا آبنائے بحیرہ احمر اور نہر سویز کے راستے ایشیا کو یورپ سے ملاتا ہے۔ جزیرہ پیرم، جسے ’مایون‘ بھی کہا جاتا ہے، اس اہم آبی گزرگاہ کو اس کے سب سے تنگ مقام پر دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ماضی میں متحدہ عرب امارات نے، جو انسدادِ حوثی اتحاد میں سعودی عرب کا اتحادی رہا ہے، اس جزیرے پر ایک ایئربیس بھی تعمیر کرنے کا کام شروع کیا تھا تاہم جنوری میں تنازع سے باضابطہ لاتعلقی کے بعد اس پر کام روک دیا گیا تھا۔ اس جزیرے پر حوثیوں کے قبضے کے بعد عالمی تجارت اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سلامتی پر شدید خطرات منڈلانے لگے ہیں۔
یمن کے جنوبی علاقوں میں تیہامہ کے وسیع ساحلی میدان میں حوثیوں کی تیز رفتار پیش قدمی نے بظاہر بیشتر مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔
تیہامہ یمن کا خشک ساحلی میدان ہے۔ حالیہ عرصے تک ’نیشنل ریزسٹنس‘ کے نام سے جانے جانے والے حوثی مخالف اتحاد کے پاس بحیرۂ احمر کے ساحل کے ساتھ خاصا بڑا علاقہ تھا، لیکن چند ہی دنوں میں اس کا بڑا حصہ حوثیوں کے قبضے میں چلا گیا۔
کچھ اندازوں کے مطابق ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز نے یمن کی سٹریٹجیک اہمیت رکھنے والی ساحلی پٹی کے 130 کلومیٹر (81 میل) تک کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔
یہ کئی برسوں میں حوثیوں کی سب سے نمایاں فوجی کامیابی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 12 سال سے جاری خانہ جنگی، سعودی عرب کے تباہ کن فضائی حملوں اور امریکی، اسرائیلی اور برطانوی فورسز کے حملوں کے باوجود حوثی اب بھی ایک ایسی قوت ہیں جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
حوثی باغیوں نے باب المندب کے انتہائی اسٹریٹجک ’پیرم جزیرے‘ پر قبضہ کر لیا


