واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی مشیروں اور اعلیٰ انتظامی عہدیداروں نے بند کمرے کے اجلاسوں میں صدر کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ ان کی موجودہ مدتِ صدارت کے اختتام یعنی جنوری 2029 تک طویل ہو سکتی ہے۔
معروف جریدے ’وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق، وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ان خفیہ بیٹھکوں میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سخت امریکی ناکہ بندی اور فوجی دباؤ کے باوجود تہران طویل عرصے تک مزاحمت جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ اندرونی خدشات صدر ٹرمپ کے ان حالیہ عوامی بیانات کے بالکل برعکس ہیں جن میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران تھک ہار کر ہتھیار ڈال دے گا اور جنگ فوراً ختم ہو جائے گی۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک طویل تنازع نہ صرف امریکی فوجی وسائل کو شدید دباؤ میں ڈال سکتا ہے بلکہ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی بھی طویل عرصے تک متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی دستوں کی مدت میں 2027 تک توسیع کر چکے ہیں، جبکہ پینٹاگون نے خطے میں اپنے فضائی دفاعی یونٹس کی واپسی کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں کی۔ دوسری جانب، صدر ٹرمپ بحری ناکہ بندی اور سخت ترین اقتصادی پابندیوں پر مبنی طویل مدتی حکمتِ عملی کی بھرپور حمایت کر رہے ہیں تاکہ تہران کو اس کے جوہری پروگرام سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔

