پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی کال پر ملک بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے، کراچی سمیت سندھ، خیبرپختونخواہ کے مختلف شہروں میں بیشتر کاروباری مراکز اور مارکیٹیں بند ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنان کی جانب سے ہڑتال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات آج متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاہور میں حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات آج ہوں گے۔ جماعت اسلامی نے مذاکرات کے لیے لیاقت بلوچ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے 4 رکنی مذاکراتی وفد شرکت کرے گا۔
حکومتی وفد میں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، سعد رفیق اور سلمان رفیق شامل ہوں گے، جبکہ حکومتی وفد کی جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق کراچی میں مختلف تاجر تنظیموں نے جماعت اسلامی کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ کلفٹن سے صدر تک بیشتر مارکیٹیں اور مالز بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ بولٹن مارکیٹ اور اطراف کے بازار بھی بند ہیں۔
صدر کراچی تاجر اتحاد عتیق میر نے کہا ہے کہ آج مکمل اور پرامن شٹر ڈاؤن ہڑتال ہوگی۔ الیکٹرانکس ڈیلرز کے صدر رضوان عرفان نے بھی ہڑتال میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ کمیڈا کے صدر منہاج گلفام نے ہڑتال کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔
آل سٹی تاجر اتحاد اور آل آئرن اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن نے بھی ہڑتال کی حمایت کی ہے، جس کے تحت ان تنظیموں سے منسلک تمام مارکیٹیں بند رہیں گی۔ سندھ تاجر اتحاد نے بھی جماعت اسلامی کی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
دوسری جانب کراچی کی میڈیسن مارکیٹ اور ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ بعض تاجر تنظیموں کی جانب سے مارکیٹیں دوپہر 3 بجے تک بند رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ہڑتال کے باعث کراچی میں مختلف علاقوں میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صبح سویرے کھلنے والے بعض پیٹرول پمپس اور دکانیں بھی بند کروا دی گئیں، جبکہ عزیز آباد کے علاقے حسین آباد میں بھی دکانیں زبردستی بند کرائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
کراچی کے کورنگی کراسنگ کے قریب سڑک پر نامعلوم افراد کی جانب سے ٹائر نذر آتش کیے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ دو موٹر سائیکلوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ صفورہ چورنگی اور اطراف کے علاقوں میں ہوائی فائرنگ کی اطلاعات کے بعد پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات کردی گئی ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں گھیراؤ اور توڑ پھوڑ کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی مقاصد کے لیے بدامنی پھیلانا انتہائی افسوسناک ہے۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کو احتجاج کا پورا حق ہے، تاہم کسی کو شہر کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانا احتجاج نہیں بلکہ قانون کو چیلنج کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والوں سے نمٹا جائے گا، جو لوگ آگ لگائیں گے اور املاک کو نقصان پہنچائیں گے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔
جماعت اسلامی کی کال پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور لیوی ٹیکس کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ شہر کی بیشتر مارکیٹیں بند رہیں اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔ شاہی بازار، موبائل مارکیٹ، گھنٹہ گھر اور کشمور روڈ پر دکانیں بند ہیں۔
جماعت اسلامی کے رہنما غلام مصطفیٰ میرانی اور عبیداللہ گولو کی قیادت میں کارکنان نے شہر میں گشت کیا اور ہڑتال کی نگرانی کی۔ کارکنان نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے تاجروں سے ہڑتال میں تعاون کی اپیل کی۔
جماعت اسلامی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ مہنگائی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل برداشت ہے، جبکہ لیوی ٹیکس کے ذریعے عوام پر مزید مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی فوری ختم کی جائے کیونکہ عوام کو اس کے بدلے کوئی ریلیف نہیں مل رہا۔
رہنماؤں نے خبردار کیا کہ مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
جماعت اسلامی کی کال پر کشمور میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال جاری ہے، کاروباری مراکز بند اور تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنان شہر بھر میں گشت کرتے ہوئے ہڑتال کی نگرانی کر رہے ہیں اور دکانداروں سے تعاون کی اپیل کر رہے ہیں۔
میرپورخاص میں بھی پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی کال پر ہڑتال کے باعث کھسک پورہ، اسٹیشن روڈ، شاہی بازار سمیت چھوٹے بڑے کاروباری مراکز بند ہیں۔ جماعت اسلامی کے کارکنان نے موٹر سائیکل ریلی نکالی اور تاجروں سے پرامن اور رضاکارانہ ہڑتال میں تعاون کی اپیل کی۔
جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس عوام پر اضافی بوجھ ہے، جس کے خاتمے تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
اس کے علاوہ جماعت اسلامی کی مرکزی کال پر اوکاڑہ، پشاور، مردان، چارسدہ، صوابی، خیبر، کوہاٹ اور ٹنڈوالہ یار سمیت مختلف شہروں میں کاروباری مراکز بند رہے۔ تاجر تنظیموں کے مختلف دھڑوں نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا، تاہم بعض علاقوں میں تاجر تنظیموں کی جانب سے ہڑتال سے لاتعلقی کے باعث دکانیں کھلی رہیں۔
اوکاڑہ میں جماعت اسلامی کی اپیل پر تاجروں نے شٹر ڈاؤن ہڑتال کی، صدر بازار، گول چوک، کچہری بازار اور دیگر تجارتی مراکز میں تقریباً 80 فیصد دکانیں بند رہیں۔ جماعت اسلامی کے عہدیداران اور کارکنوں کی بڑی تعداد گول چوک میں قائم احتجاجی کیمپ میں جمع ہوگئی، جہاں سے 11 بجے کے بعد احتجاجی ریلی نکالنے کا اعلان کیا گیا۔
چند تاجروں کی جانب سے دکانیں بند نہ کرنے پر دکانداروں اور جماعت اسلامی کے عہدیداران کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔ جماعت اسلامی کے ضلعی امیر سلمان اظہر کے مطابق انجمن تاجران نے بھی احتجاجی مظاہرے میں شرکت کا عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث اشیائے خورونوش سمیت روزمرہ استعمال کی دیگر اشیا کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔
جنرل سیکریٹری ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن طارق نسیم منگن نے کہا کہ ڈسٹرکٹ بار جماعت اسلامی کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتی ہے۔ ہڑتال کے باعث وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس سے سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پشاور میں بھی پیٹرولیم لیوی ٹیکس کے خلاف جماعت اسلامی کی اپیل پر ہڑتال کی گئی، جبکہ صوبے کے مختلف اضلاع میں احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ صوبائی ترجمان کے مطابق پشاور، مردان اور چارسدہ میں کاروباری مراکز بند رہے، جبکہ صوابی، خیبر اور کوہاٹ میں بھی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ تمام تاجر تنظیموں نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔
امیر جماعت اسلامی وسطی خیبرپختونخوا عبدالواسع نے کہا کہ احتجاجی تحریک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو پیٹرولیم لیوی، ناروا لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ سے قوم کو نجات دلانا ہوگی۔ عبدالواسع کا کہنا تھا کہ گورنر نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے مطالبات جائز ہیں۔
کوئٹہ میں بھی جماعت اسلامی کی جانب سے تاجروں اور عوام کے تعاون سے شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ جماعت اسلامی کے رہنما مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا کہ ہڑتال زندگی، عزت اور امن کے لیے کی جارہی ہے، جبکہ بدامنی سے متاثرہ علاقوں میں دھرنا کیمپس بھی لگائے جائیں گے۔
دوسری جانب مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے ہڑتال سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کی جانب سے کوئی ہڑتال نہیں ہے اور تمام دکانیں کھلی رہیں گی۔ صدر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رحیم کاکڑ نے کہا کہ بار بار کی ہڑتالوں سے بلوچستان کا کاروبار شدید متاثر ہوچکا ہے۔ ہڑتالوں کے باعث تاجروں، دکانداروں اور عوام کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کاروبار اور معیشت کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے پُرامن اور مثبت راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
ٹنڈوالہ یار میں بھی جماعت اسلامی کی مرکزی کال پر شہر بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔ صبح کے اوقات میں کھلنے والے کاروباری مراکز سمیت دودھ دہی، بیکری، کریانہ اور ناشتے کی دکانیں بھی بند رہیں، جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کا شہر بھر میں گشت جاری رہا۔
جماعت اسلامی کے عہدیداران کا کہنا ہے کہ ہڑتال پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف کی جارہی ہے۔ جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کرے، بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور اووربلنگ کا خاتمہ کرے اور عوام کو بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف فراہم کرے۔

