تہران / نیویارک:امریکا اور ایران کے مابین جاری کشیدگی کے دوران ایک انتہائی ہولناک اور دل دہلا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے۔ معروف امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے اپنی کی گئی تحقیقی رپورٹ میں تصدیق کی ہے کہ ایران میں شادی کی ایک پرمسرت تقریب پر گرنے والا تباہ کن بم کسی اور کا نہیں بلکہ ایک امریکی جنگی جہاز سے داغا گیا تھا۔ اس انسانی المیے نے خطے میں جاری فضائی کارروائیوں کے جواز پر شدید سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، منگل کی رات ایران کے ساحلی علاقے کوہستک کی بندرگاہ کے قریب واقع ایک کمیونیکیشن ٹاور کو نشانہ بنانے کے لیے حملہ کیا گیا تھا، تاہم نشانے سے چوک جانے کے باعث یہ مہلک بم ٹاور سے محض 150گز کے فاصلے پر واقع ملہی خاندان کے گھر پر آ گرا، جہاں اس وقت شادی کی پروقار تقریب جاری تھی۔ گھر مہمانوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور چونکہ یہ بم تقریب کے خواتین والے حصے پر گرا، اس لیے سب سے زیادہ جانی نقصان خواتین اور معصوم بچوں کو اٹھانا پڑا۔
اس المناک حملے کے نتیجے میں ایک 6 سالہ بچے اور 16 سال کی عمر کے ایک نوجوان سمیت 5 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے، جن میں سے کم عمر لڑکے کی شناخت اس کی جیب میں موجود موبائل فون کے ذریعے کی گئی۔ اس کے علاوہ حادثے میں 67 افراد شدید زخمی ہوئے جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے ۔
نیویارک ٹائمز کی تحقیقات کے مطابق، حادثے کے مقام سے ملنے والے بم کے ٹکڑے اور بولٹ کا پیٹرن ‘جے سو (JSOW) گلائیڈ بم’ کے ٹیل فن سے ہو بہو مطابقت رکھتا ہے، جو کہ امریکی سینٹکام (CENTCOM) کے استعمال میں ہے اور ایران ایسے ہتھیاروں کا حامل نہیں۔ خود سینٹکام کی اپنی اسٹرائیک ویڈیو میں بھی یہی ہتھیار جنگی جہاز کے پروں کے نیچے لٹکا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

