تحریر :ملک محمد سلمان
جہاں لفظ بے نقاب ہوں۔۔۔ وہیں سے سچ کا آغاز ہوتاہے
چند ماہ قبل تک ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر براجمان جبکہ حالیہ لاہور صوبائی محکمے میں پوسٹڈ آفیسر سے گزشتہ شب مینٹل ہسپتال / نفسیاتی کلینک میں ملاقات ہوئی، پہلے تو وہ نظریں چرانے لگے پھر خود ہی ملنے آگئے، حال احوال کے بعد پوچھا کہ خیریت سے میں نے ساتھ آئے دوست کی طرف اشارہ کیا کہ یہ دوست پراپرٹی کا بزنس کرتے ہیں انکا نفسیاتی ایشو تھا تو انکو چیک کروانا تھا۔ انہوں نے دوست کو غور سے دیکھا اور اسے پوچھا کہ تم فلاں ہو نا تو دوست نے ہچکچاتے ہوئے اثبات میں جواب دیا۔ آج صبح سویرے ڈپٹی کمشنر رہنے والے مذکورہ آفیسر کی کال آئی کی بھائی اگر ایزی ہیں تو چائے پینے آسکتا ہوں؟
میں نے کہا کہ موسٹ ویلکم ناشتہ کرتے ہیں۔
پہلے تو انہوں نے اپریشیٹ کیا کہ مجھے یہ بات اچھی لگی کہ آپ نے مشہور آفیسر کا تعارف پراپرٹی ڈیلر کروایا کہ اسکی عزت خراب نہ ہو ویسے حقیقت میں بھی موصوف آفیسر کم اور پراپرٹی ڈیلر زیادہ ہے۔
میرے کالمز کا حوالہ دیا کہ آپ سچ لکھتے تھے کہ ڈی سی شپ سدا نہیں رہنی۔ لیکن اس وقت ڈی سی شپ کے نشے اور کتا مار مہم کی آڑ میں روزانہ کی کمائی نے اس قدر اندھا کیا ہوا تھا کہ آپ کی باتوں کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ ریونیو، بیوٹیفیکیشن، مختلف ایونٹس میں بہت پیسے کمائے لیکن جس کمائی نے اسے آج مینٹل ہسپتال پہنچایا وہ معصوم کتوں کی نسل کشی والی کمائی ہے۔
مزکورہ آفیسر کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بیوروکریسی کے افسران کی اکثریت کرائے کے قاتل بن چکے ہیں پیسے کیلئے انسانوں کو بھی مار سکتے ہیں۔ ایک مزے کی مثال بھی دی کہ اگر آج حکومت انسانوں کے قتل کے عوض ہمیں فنڈز دے تو ناصرف ساتھی افسران انسانوں کے قتل کو لازم و ضروری کی وجوہات لادیں گے بلکہ کمال مہارت سے 12لاکھ آبادی والی تحصیل میں 70لاکھ انسان مارنے کا بل بنا بھی لیں گے اور ثابت بھی کردیں گے کہ باقی کے 58لاکھ کسی ایونٹ میں شرکت کیلئے آئے تھے ہمارا 70لاکھ بندے مارنے کا بل کلئیر کیا جائے۔مذکورہ آفیسر کا کہنا تھا کہ اس نے ڈی سی شپ بچانے اور روزانہ کی کمائی کی خاطر کتوں کو سفاکانہ طریقے سے قتل تو کروایا لیکن اب اسے رات کو نیند نہیں آتی سونے کی کوشش کرتا ہے معصوم کتوں کی لہولہان شکلیں سامنے آجاتی ہیں۔
مزکورہ آفیسر کا کہنا تھا کہ واقعی کتوں کا عالم ارواح میں اللہ سے شکوہ قبول ہوگیا ہے شاید۔ پمز ہسپتال، قبل ازیں لاہور ٹویشن سینٹر اور دیگر واقعات درجن سے زائد شہادتیں شاید ان کتوں کے بچے مارنے کے بدلے انسانی بچوں کی شہادتوں کی صورت اللہ کا انتقام ہے، انتقام تو شاید بہت سخت ہو، یہ ابھی وارننگ پیغام ہے کہ اللہ کی مخلوق پر ظلم بند کر دو۔
زہر اور فائرنگ سے ایک ایک قطرہ کرکے خون نکلنے اور رگیں کٹنے کی تکلیف سے تڑپ تڑپ کر مرنے والے کتوں کی اذیت کو اللہ نے نہیں دیکھا ہوگا؟
اللہ کی کوئی مخلوق بے کار و بے وجہ نہیں اس کی تخلیق کو ختم کرنے والوں سے وہ بدلہ نہیں لے گا؟
ہر ضلع میں پبلک ویلفیئر فنڈز سمیت دیگر مدات سے رقم نکال کر روزانہ کی بنیاد پر لاکھوں روپے کتے مارنے کے نام پر لوٹے گئے، مجموعی طور پر اربوں روپے کتے مارنے کے نام پر اجاڑے اور ڈکارے جا چکے ہیں لیکن ویکسینیشن کے لیے پیسے نہیں؟
اگر ان معصوم جانوروں کو ویکسینیشن اور علاج معالجہ کی سہولتیں نہیں ملنی تو تمام تحصیلوں میں ویٹنری ہسپتال اور مانٹیرنگ کمیٹیاں صرف دکھاوے اور کرپشن کیلئے بنائی جاتی ہیں؟
آج تک کسی صحت مند کتے نے کسی شہری کو نہیں کاٹا بلکہ جتنے بھی واقعات ہوئے اس کے پس منظر میں پہلے محلے داروں نے ان کتوں کو زخمی کیا اور پھر وہ انہی زخموں کا علاج نہ ہونے سے باؤلے ہوگئے اور باؤلے پن میں شہریوں پر حملہ کیا۔
نبیﷺ کے دور میں مسجد نبوی میں کتے داخل ہوتے تھے مگر نہ تو صحابہ مسجد دھوتے اور نہ ہی کتوں کو مارتے۔امام حسین نے پیاسے کتے کو پانی پلانے والے غلام کوآزاد کروا دیا۔
معصوم جانوروں سے پیار اور رحم دلی ہی نبوی ﷺ راستہ اور حسینی سوچ ہے جبکہ ان معصوم جانوروں پر ظلم کرنے والے یزیدی سوچ اور نظریات کے پیروکار ہیں۔
گاؤں سے لیکر شہر تک ہر جگہ کتوں کو دیکھتے ہی دھتکار کر بھگا دیا جاتا ہے حتیٰ کہ بلاوجہ پتھر مار کر یا چھڑی کے ساتھ پیٹا جاتا ہے۔ جس کتے کو آپ نے کبھی ایک ٹکڑا روٹی بھی دی ہوگی وہ کبھی پلٹ کر آپکو نہیں کاٹے گا۔ فریش کھانا نہیں دے سکتے تو کم از کم مہمانوں کا بچا ہوا کھانا ہی ڈال دیا کریں۔
رسول ﷺ صحابہ کے ہمراہ جارہے تھے کہ راستے میں ایک کتیا اپنے بچوں کودودھ پلا رہی تھی، اللہ کے نبیﷺ نے لشکر کو راستہ بدلنے کا حکم دیا اور صحابی کو کتیا اور اس کی بچوں کی حفاظت پر متعین فرمایا کہ لشکر گزرتے وقت ان کو نقصان نہ پہنچے۔
قرآن میں جتنی دفعہ بھی کتے کا ذکر ہوا مثبت انداز میں ہوا، اصحاب کہف کے واقع میں بھی کتے کی وفادری کی وجہ سے اسے جنت کی بشارت دی گئی۔
ماضی میں کتنے ہی ظالم حکمران و افسران ذہنی مسائل کا شکار ہوکر لاوارثوں کے طرح ہسپتالوں میں مرے تو بہت ساروں نے خودکشیاں کیں جبکہ بے شمار کو اولاد کا دکھ ملا۔ بے سہارا ور بے زبانوں پر ظلم کا بدلہ اس دنیا اور آخرت دونوں میں ہر صورت ملتا ہے۔


