غزہ سے اڑائی جانے والی چار پتنگیں اسرائیلی سرحدی علاقے نہال عوز میں جا اتریں جس پر علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اسرائیلی فوج کو طلب کیا گیا۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق ان پتنگوں کو جاسوس یا پھر دہشت گردی میں استعمال ہونے کے ڈر سے جانچ پڑتال کے لیے تحویل میں لیا گیا۔
فوج نے چاروں پتنگوں کا معائنہ کیا اور تصدیق کی کہ ان پر کوئی مشتبہ مواد یا چیز موجود نہیں تھی۔ اس سے کسی بھی مرحلے پر عوام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں تھا۔
اس واقعے نے اسرائیل میں ماضی کی یادیں ضرور تازہ کر دیں جب 2018 میں فلسطینی مظاہرین نے سرحدی علاقوں کی جانب آتش گیر مواد والی پتنگیں اور غبارے بھیجے تھے۔
ان پتنگوں اور غباروں نے اسرائیلی سرحدی علاقوں میں اتر کر بڑے پیمانے پر آگ لگا دی تھی تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

