چھترپتی سمبھاجی نگر، مہاراشٹر:بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر چھترپتی سمبھاجی نگر (اورنگ آباد) معمولی خاندانی تنازع اس وقت المناک سانحے میں بدل گیا جب ایک ہی خاندان کے تین افراد پہاڑی سے نیچے گر کر جاں بحق ہو گئے۔
پولیس کے مطابق یہ دلخراش واقعہ تلگاؤں میں پیش آیا۔ جان بحق ہونے والوں کی شناخت مرلیدھر چندگودے (عمر 48 سال)، ان کی اہلیہ سنگیتا، اور ان کے 19 سالہ بیٹے کنال کے طور پر ہوئی ہے، جو شہر کے ذلتا پھاٹا کے رہائشی تھے۔
In an unfortunate turn of events, three members of a family died in Maharashtra's Chhatrapati Sambhajinagar on Friday afternoon after a domestic dispute over a mobile phone ended in a sequence of fatal falls from a hilltop, police said.
The tragedy unfolded in the Tisgaon area… pic.twitter.com/IX4xlPnJzk
— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) August 21, 2026
19 سالہ کنال اپنے والدین سے نئے موبائل فون کی خریداری کی ضد اور تلخ کلامی کے بعد ناراض ہو کر قریبی پہاڑی پر چڑھ گیا۔ بیٹے کی سلامتی اور تشویش کے پیشِ نظر والدین مرلیدھر اور سنگینتا بھی اس کے پیچھے پہاڑی پر پہنچ گئے تاکہ اسے سمجھا بجھا کر واپس گھر لایا جا سکے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی دیہی باشندے، پولیس اہلکار اور فائر بریگیڈ کا عملہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گیا اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ فائر سروس کے اہلکاروں نے کی پہاڑی کے دامن میں حفاظتی جال (سیفٹی نیٹ) پھیلانے کی کوشش کی تاکہ گرنے والے افراد کو محفوظ بچایا جا سکے، تاہم نوجوان کنال چٹان کے کنارے پر مسلسل اپنی پوزیشن بدلتا رہا جس کی وجہ سے امدادی ٹیموں کی کوششیں بار بار ناکام ہو گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ خاندانی تنازع ایک بڑے المیے میں بدل گیا اور تینوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔

