نیپال برما، بنگال سمیت پورے ہندستان میں صدیوں سے ہیومن ٹرانسپورٹیشن کا رواج تھا جو آج بھی جاری ہے، پہاڑوں پر موجود مندروں کے مشکل راستوں سے یہ مزدور، یاتریوں کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر بیس بائیس کلومیٹر کا راستہ طئہ کرکے بھگوان کے درشن کرانے لے جاتے ہیں یہ نیپال اور اتراکنڈ کے ہمالیہ پہاڑی رینج کے کیدرناتھ مندر کا یاتری ہے جو انسان پر سوار ہو کر اپنے خدا ملنے جا رہا ہے.. نیپال میں بھی ایسے کئی مندر جہاں اس ہیومن ٹرانسپورٹیشن کے مزدور یاتری مندروں تک لے جاتے ہیں… شاید کبیر بھگت نے ایسے منظر دیکھ کر ہی کہا تھا کہ
نہ جانے تیرا صاحب کیسا ہے
نیپال برما، بنگال سمیت پورے ہندستان میں صدیوں سے ہیومن ٹرانسپورٹیشن کا رواج آج بھی جاری

