اربیل، عراق:شمالی عراق کے نیم خود مختار علاقے اربیل میں منگل کی صبح خوفناک دھماکوں کی گونج سے فضا لرز اٹھی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اربیل میں ایک کے بعد ایک کم از کم سات طاقتور دھماکے سنے گئے، جن میں انتہائی حساس علاقہ یعنی امریکی قونصل خانے کے قریب ہونے والا دھماکہ بھی شامل ہے۔ مبینہ طور پر ایرانی ڈرونز نے پورے خطے میں متعدد اہم مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر شدید آگ بھڑک اٹھی ہے۔
الجزیرہ نے پولیس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کم از کم چار ایرانی ڈرونز نے اربیل کے شمال مشرق میں واقع علاقوں ‘خلفان’ اور ‘سوران’ کو نشانہ بنایا، جبکہ دو ڈرون ہدف کے قریب گر کر تباہ ہو گئے۔ ان حملوں کے فوری بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی اور مبینہ طور پر اربیل کی فضائے بسیط پر دس سے زائد امریکی جنگی طیارے اور ڈرون گشت کرتے ہوئے دیکھے گئے۔
دوسری جانب، ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے (IRIB) نے عراقی ذرائع کے حوالے سے صوبہ الانبار میں ایک امریکی ڈرون کے گر کر تباہ ہونے کی اطلاع دی ہے، جبکہ مقامی میڈیا نے الحدیدہ ڈیم کے قریب بھی ایک امریکی ڈرون کے ملبے اور گرنے کی تصاویر جاری کی ہیں۔ ان حملوں کے ساتھ ہی شمالی اور مغربی عراق میں بڑے پیمانے پر فوجی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، اور اطلاعات کے مطابق سلیمانیہ میں واقع اہم ‘خور مور گیس فیلڈ’ کو بھی حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ٹرمپ کا انتباہ: "یا تو بات چیت مان لو یا پھر سخت ترین فوجی کارروائی کے لیے تیار رہو”
یہ سنسنی خیز پیش رفت ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایک انٹرویو میں دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ اگر جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو وہ ایران کے خلاف انتہائی سخت فوجی کارروائی فوری طور پر دوبارہ شروع کرنے میں ایک لمحہ بھی تاخیر نہیں کریں گے۔ تاہم، مشہور امریکی میڈیا آؤٹ لیٹ ‘ایکسیوس’ (Axios) کے مطابق، صدر ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے تہران پر منصوبہ بند بڑے حملوں کو فی الحال عارضی طور پر روک دیا ہے تاکہ سفارت کاری کو ایک اور موقع فراہم کیا جا سکے۔
موجودہ سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ مکمل طور پر کھولنا اور ایک نئے جامع جوہری معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت عمان اور ایران سفارتی مذاکرات کی قیادت کر رہے ہیں، جبکہ قطر، پاکستان، مصر اور صدر ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور سینئر مشیر جیرڈ کشنر بھی اس عمل میں انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب ‘ایکسیوس’ نے ٹرمپ سے پوچھا کہ وہ سفارت کاری کے لیے کتنا وقت دینے کے خواہاں ہیں، تو ان کا واضح جواب تھا: "زیادہ وقت نہیں۔ یہ یا تو تیزی سے آگے بڑھے گا یا بالکل نہیں۔” ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ علاقائی حکومتوں اور ثالثی کی کوششوں میں جُتی دیگر طاقتوں کی پرزور درخواست پر ہی انہوں نے آخری وقت میں منصوبہ بند امریکی حملے کو ہولڈ کیا۔

