واشنگٹن:امریکا اور ایران کے درمیان جاری پانچ ماہ طویل جنگ نے امریکی سیاسی منظرنامے میں طوفان برپا کر دیا ہے۔ روئٹرز اور ایپساس (Reuters/Ipsos) کے تازہ ترین عوامی سروے کے مطابق اب صرف ایک تہائی (33 فیصد) امریکی عوام اس جنگ کی حمایت کر رہے ہیں، جو اس تنازعے کے آغاز کے بعد سے اب تک کی سب سے کم ترین شرح ہے۔ سروے میں شامل اکثریت کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب تک قوم کو اس جنگ کے حقیقی اور واضح مقاصد سمجھانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔
جمعہ سے اتوار کے دوران کیے جانے والے اس ملک گیر آن لائن سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف معمولی اضافے کے ساتھ 37 فیصد پر آ گیا ہے، جو گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تین فیصد زیادہ ہے، تاہم یہ ان کی صدارت کے پست ترین دور کے قریب ہی ہے۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے دوران اپنے بیانات اور اہداف کو بار بار بدلا گیا ہے۔ کبھی انہوں نے ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے میں مدد کی بات کی، کبھی ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو ختم کرنے کا عزم ظاہر کیا اور کبھی اسے ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کو ہدف قرار دیا۔ تاہم، حالیہ سروے کے مطابق 69 فیصد امریکیوں (جن میں 40 فیصد ریپبلکنز بھی شامل ہیں) کا یہ ماننا ہے کہ ٹرمپ یہ واضح کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ آخر امریکا اس فوجی تنازعے میں کیوں کودا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے ان جائزوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ "مائع اور بدلتے ہوئے عوامی آراء کے جائزوں” کی بنیاد پر فیصلے نہیں کریں گے، اور وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے اپنے عزم پر قائم ہیں۔
تاریخی تناظر اور زمینی حقائـق:
رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد سے اس جنگ کی عوامی حمایت کبھی بھی 40 فیصد سے اوپر نہیں گئی۔ یہ صورتحال ماضی کی دیگر جنگوں کے برعکس ہے؛ مثال کے طور پر 2003 کی عراق جنگ کو ابتدائی مہینوں میں تقریباً 70 فیصد اور 2001 کی افغانستان جنگ کو تقریباً 90 فیصد عوام کی حمایت حاصل تھی۔
اس جنگ کے دوران اب تک 18 امریکی فوجی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ ایران اور لبنان میں ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں اور فی گیلن قیمت 3 ڈالر سے بڑھ کر 4 ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے، جس نے عام امریکی کی کمر توڑ دی ہے۔
سیاسی بحران اور نومبر کے وسطی مدتی انتخابات:
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے خلاف عوامی غم و غصہ نومبر میں ہونے والے وسطی مدتی انتخابات (Midterm Elections) سے قبل صدر ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے بہت بڑا سیاسی خطرہ بن چکا ہے۔ جارج ڈبلیو بش کے دور میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان رہنے والے سیاسی حکمت عملی ساز الیکس کونٹ کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس معاشی دلائل پر توجہ مرکوز کرنا چاہتا تھا، لیکن خارجہ پالیسی کے اس دلدل نے سب کچھ الٹ کر رکھ دیا ہے۔
انتخابات سے متعلق رائے شماری میں رجسٹرڈ آزاد ووٹرز نے بھی ریپبلکنز کے مقابلے میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے خود کو طویل جنگوں سے دور رکھنے کا وعدہ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ جنگ محض چار سے پانچ ہفتے چلے گی، لیکن اس طویل اور بے مقصد جنگ نے ووٹرز کو شدید مایوس کیا ہے۔
ایران جنگ کے خلاف عوامی سروے: صرف ایک تہائی امریکیوں کی حمایت،ٹرمپ کی مقبولیت کا گراف گر کر صرف 37 فیصد رہ گیا،

