بوسٹن:امریکی شہر بوسٹن میں قائم فرسٹ سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے تین رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی وہ درخواست مسترد کر دی ہے جس میں امریکی ڈسٹرکٹ جج لیو ٹی سورکن کے 8 جون کے فیصلے پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔ اس ڈسٹرکٹ فیصلے میں ایچ 1 بی ویزے کے لیے عائد کی جانے والی ایک لاکھ ڈالر کی بھاری فیس کو غیر قانونی ٹیکس قرار دے کر ختم کر دیا گیا تھا، کیونکہ اسے کانگریس کی توثیق یا منظوری حاصل نہیں تھی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق عدالتِ اپیل نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ ’ہم مدعی (وفاقی حکومت) کی اس درخواست کو مسترد کرتے ہیں جس میں اس عدالت میں اپیل کے دوران ڈسٹرکٹ کورٹ کے 8 جون کے میمورنڈم، حکم نامے اور اس سے منسلک فیصلے پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی گئی تھی۔‘
تین رکنی ججوں کے بینچ نے اس مقدمے میں ڈیموکریٹک پارٹی کی حکومت والی 20 ریاستوں (جو مدعی ہیں) کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں ہے کہ آیا کانگریس متعلقہ اختیار انتظامیہ کو منتقل کر سکتی ہے یا نہیں، بلکہ اصل نکتہ یہ ہے کہ کیا کانگریس نے حقیقت میں ایسا کوئی اختیار دیا بھی ہے یا نہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال ستمبر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک صدارتی اعلامیہ جاری کیا تھا، جس کے تحت نئے ایچ 1 بی (H-1B) ویزوں کے حصول کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی نان ریفنڈ ایبل فیس نافذ کی گئی تھی۔ ایچ 1 بی ایک نان امیگرنٹ ویزا ہے جو امریکی کمپنیوں کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ مخصوص تکنیکی شعبوں میں غیر ملکی ماہرین کو ملازمت پر رکھ سکیں۔ امریکہ کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں چین اور بھارت جیسے ممالک سے ہنر مند ملازمین لانے کے لیے اس ویزے پر شدید انحصار کرتی ہیں۔
اپیل عدالت نے اپنے فیصلے میں 1989 کے سپریم کورٹ کے ایک تاریخی مقدمے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ کے لیے یہ ثابت کرنا لازم ہے کہ کانگریس نے مالی بوجھ یا ٹیکس عائد کرنے کے اختیارات واضح طور پر منتقل کیے ہیں، خواہ انہیں ’فیس‘ کا نام دیا جائے یا ’ٹیکس‘۔ عدالت کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ یہ وضاحت پیش کرنے میں پوری طرح ناکام رہی ہے کہ اس معاملے میں اس واضح قانونی معیار کی پابندی کیوں نہیں کی گئی۔
عدالتی حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے محض سرسری انداز میں یہ دعویٰ کیا کہ حکم پر عمل درآمد نہ ہونے سے مدعیوں کو ’کم سے کم‘ نقصان پہنچے گا، مگر وہ اس مؤقف کے حق میں کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں کر سکے، جس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت اسے مدعیان کو خاطر خواہ نقصان نہ ہونے کی توثیق سمجھتی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ایچ 1 بی ویزا فیس کے نفاذ پر پابندی کا نچلی عدالت کا حکم اپیل کی کارروائی کے دوران برقرار رہے گا۔
ایچ 1 بی ویزا پر ایک لاکھ ڈالر فیس کا معاملہ: ٹرمپ حکومت عدالت میں ناکام، فیصلہ برقرار

