اننت ناگ مسلسل چھ روز تک خراب موسمی حالات کے باعث معطل رہنے والی سالانہ شری امرناتھ یاترا آج (بروز سنیچر) دوبارہ بحال کر دی گئی۔ موسم میں نمایاں بہتری اور یاترا راستوں پر بحالی و مرمتی کام مکمل ہونے کے بعد انتظامیہ نے یاترا دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ لیا۔ تاہم جموں سے آنے والے نئے قافلہ کو صرف بالتل کے راستے کی جانب روانہ کیا گیا۔
حکام کے مطابق بھگوتی نگر جموں سے 223 گاڑیوں کے قافلے میں 6,269 یاتری سخت حفاظتی انتظامات کے تحت بالتل بیس کیمپ کے لیے روانہ ہوئے، جب کہ احتیاطی تدابیر کے طور پر اس مرحلے میں پہلگام راستے سے کسی بھی قافلے کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔البتہ پہلگام کے ننون بیس میں درماندہ ہزاروں یاتریوں کو آج صبح تقریبا تین بجے امرناتھ یاترا کے لیے روانہ کیا گیا۔
واضح رہے کہ 19 جولائی سے مسلسل بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور راستوں کے غیر محفوظ ہونے کے خدشات کے پیش نظر یاترا کو احتیاطی طور پر عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔ اس دوران متعلقہ محکموں نے دونوں راستوں پر بحالی کا کام تیزی سے جاری رکھا اور موسم بہتر ہونے کے بعد مکمل معائنہ کرکے انہیں یاتریوں کی آمد و رفت کے لیے محفوظ قرار دیا، جس کے بعد یاترا کی بحالی کی منظوری دی گئی۔
حکام کے مطابق تقریباً 20 ہزار یاتری مختلف بیس کیمپوں، قیام گاہوں اور ہوٹلوں میں یاترا کی بحالی کے منتظر تھے۔ جیسے ہی انتظامیہ نے دونوں راستوں سے یاتریوں کے قافلوں کو روانہ ہونے کی اجازت دی، عقیدت مندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وہ "بم بم بھولے” کے نعروں کے ساتھ مذہبی عقیدت اور جوش و جذبے کے ماحول میں مقدس امرناتھ گھپا کی جانب روانہ ہوئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاری سالانہ امرناتھ یاترا کے دوران اب تک 3.9 لاکھ سے زائد عقیدت مند بابا برفانی کے مقدس درشن کر چکے ہیں۔
انتظامیہ نے یاتریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف طے شدہ شیڈول کے مطابق ہی سفر کریں اور شری امرناتھ شرائن بورڈ، ضلع انتظامیہ، پولیس اور دیگر سکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے جاری کردہ تمام ہدایات پر عمل کریں تاکہ یاترا محفوظ، منظم اور خوش اسلوبی سے جاری رہ سکے۔
واضح رہے کہ 19 جولائی سے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری تھا، جب کہ کئی پہاڑی اور جنگلاتی علاقوں میں بادل پھٹنے کے واقعات بھی پیش آئے، جن کے نتیجے میں مختلف مقامات پر جانی و مالی نقصان ہوا اور کئی افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ محکمہ موسمیات نے 19 سے 23 جولائی کے دوران جموں و کشمیر میں موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے پہلے ہی عوام اور یاتریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت جاری کی تھی، جس کے بعد یاترا کو عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

