کوئٹہ (بیورو رپورٹ: رحمت اللہ بلوچ، بے نقاب نیوز):

ڈی جی لیویز کے جاری کردہ مراسلے کے مطابق لیویز فورس کے تمام کیڈرز، بشمول زونل ڈی جیز، ایڈمن افسران اور دیگر تمام رینک کے اہلکاروں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آئندہ سات دنوں کے اندر اپنے متعلقہ علاقوں میں پولیس کو باقاعدہ رپورٹ کریں۔
جاری احکامات میں واضح کیا گیا ہے کہ اب لیویز فورس کا اپنا علیحدہ وجود نہیں رہے گا۔ آئندہ چند روز کے اندر تمام لیویز اہلکاروں پر بلوچستان پولیس کا یونیفارم لاگو کر دیا جائے گا، اور اب وہ وہی یونیفارم استعمال کریں گے جو بلوچستان پولیس فورس پہنتی ہے۔

اس اقدام کو صوبے میں پولیسنگ کے نظام کو مزید مستحکم اور یکساں بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ لیویز فورس کا پولیس میں انضمام سیکیورٹی انتظامات میں بہتری لانے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو بہتر بنانے کے لیے ناگزیر تھا۔
اب لیویز فورس کے تمام انتظامی اور آپریشنل معاملات پولیس کے طے کردہ قوانین کے تحت چلائے جائیں گے۔ اس بڑی تبدیلی کے بعد لیویز کے ہزاروں اہلکار اب براہِ راست پولیس فورس کا حصہ بن جائیں گے۔
لیویز فورس کیا ہے؟
قیام پاکستان سے قبل بلوچستان دو حصوں ریاست قلات اور برٹش بلوچستان پر مشتمل تھا۔ برٹش بلوچستان میں وہ علاقے شامل تھے جو کہ براہ راست انگریزوں کی عملداری میں تھے جبکہ مورخین کے مطابق دیگر علاقوں میں ان کی براہ راست عملداری نہیں تھی۔
برٹش بلوچستان میں سب سے پہلے سر رابرٹ سنڈیمن نے 1887 میں لیویز فورس کو قائم کیا جو کہ دیہی علاقوں میں پولیسنگ کا کام کرتی تھی۔ ایک قبائلی معاشرہ ہونے کی وجہ سے لیویز فورس کے اہلکاروں کی تشکیل مختلف قبائل سے ہوتی تھی۔ جبکہ شہری علاقے پولیس کے زیر انتظام تھے۔
فورس کا آغاز برطانوی دورِ حکومت میں سوات، ملاکنڈ، دیر اور بلوچستان سے ہوا۔ یہ علاقے بھی اس زمانے میں قبائلی علاقہ جات میں شمار ہوتے تھے۔ موجودہ قبائلی علاقہ جات جو اب ضم شدہ اضلاع کہلائے جاتے ہیں۔
یہاں پر لیویر فورس کا آغاز تب عمل میں لایا گیا جب یہ علاقے دہشت گردی کی گرفت میں آئے۔ انتظامیہ کو یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ نیم پختہ خاصہ دار فورس نہ تو اپنے قبیلے کا انتظام و انصرام سنبھال سکتی ہے، نہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کی مدد کر سکتی ہے۔یہیں سے اس سوچ نے جنم لیا کہ دوران دہشت گردی قبائلیوں کی طرف سے بھی ایک ایسی منظم فورس پیدا ہو جو اپنے علاقے کی جغرافیائی پہچان، قبائلیت کے اصول اور پاکستان کی قومیت کی بقا سے بخوبی واقف ہو۔ لہٰذا لیویز فورس کو عمل میں لایا گیا۔ جو آج کل بشمول خاصہ داروں کے فرنٹیئر کانسٹیبلری، فرنٹیئر کور اور پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ کام کر رہے ہیں۔
ان کی وردی اور ہتھیار حکومت کی طرف سے فراہم کردہ ہوتا ہے۔ خاصہ داروں کے برعکس یہ لوگ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں۔اس کو پیرا ملٹری فورس کہا جاتا ہے اور ان کو باقاعدہ تربیت بھی ملتی رہتی ہے۔ ان کی تنخواہیں بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ لیویز اہلکار زیادہ تر نوجوان اور جسمانی طور پر موزوں رہتے ہیں۔
ان کی ذمہ داریاں یہ ہیں:
سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مل کر حفاظتی ڈیوٹی سر انجام دینا۔ پولیٹیکل ایجنٹ کے حکم پر گھروں پر چھاپے مارنا، سمگلنگ اور تخریب کاری کی روک تھام میں فوج کی مدد کرنا۔
قیام پاکستان کے بعد نہ صرف اے اور بی ایریاز کے نام سے پولیسنگ کے اس الگ الگ نظام کو برقرار رکھا گیا بلکہ بلوچستان کے قبائلی نظام کی وجہ سے لیویز فورس کی نفری میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس کی صلاحیت میں بھی اضافہ کیا گیا۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دور سے قبل لیویز فورس کا زیر انتظام علاقہ رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کا 90 فیصد سے زیادہ تھا۔ تاہم بعد میں پولیس کے علاقے میں اضافہ کیا جاتا رہا جس کے باعث رواں سال کابینہ کے انضمام کے فیصلے سے قبل 85 فیصد علاقہ لیویز فورسز کے کنٹرول میں تھا۔ان علاقوں کے لیے لیویز فورس کی تعداد 28 ہزار کے لگ بھگ تھی جبکہ پولیس کی نفری 42 ہزار سے زائد ہے۔
لیویز فورس کا انضمام اور احتجاج
قیام پاکستان کے بعد سب سے پہلے لیویز فورس کی پولیس میں انضمام کی باتیں جنرل پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوئیں اور 2002 کے عام انتخابات کے بعد اس سلسلے میں عملی اقدامات کا آغاز ہوا۔
وفاقی حکام کے علاوہ پولیس کے آفیسرز کی دلیل یہ تھی کہ بلوچستان کو ایک قبائلی معاشرے سے ایک جدید معاشرے میں تبدیل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا جاتا رہا کہ یہ فورس قبائلی سرداروں کے زیرِ اثر ہے۔
عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر مخالفت کے باوجود سابق وزیر اعلیٰ جام کمال خان کی حکومت نے 2003 میں لیویز فورس کو خطیر رقم خرچ کر کے پولیس میں ضم کر دیا۔
تاہم جب 2008 کے عام انتخابات کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کی قیادت میں نواب اسلم خان رئیسانی کی مخلوط حکومت بنی تو لیویز فورس کو اپریل 2010 میں دوبارہ بحال کر دیا گیا۔
تاہم موجودہ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں مخلوط حکومت بننے کے بعد ایک مرتبہ پھر لیویز فورس کی انضمام کے لیے کوششیں شروع ہوئیں۔ ستمبر میں لیویز فورس ایکٹ کو منظور کر کے اکتوبر میں کابینہ نے آٹھ میں سے چھ ڈویژنز میں لیویز فورس کو پولیس میں ضم کرنے کی منظوری دی جس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔
اس کے خلاف لیویز فورس کے اہلکاروں نے نہ صرف ضلعی ہیڈکوارٹرز میں اپنے تھانوں کے سامنے دھرنا دیا بلکہ اس کے خلاف وردی میں احتجاجی ریلیاں بھی نکالیں۔ یہ بلوچستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا سب سے طویل احتجاج رہا۔ بعض شہروں میں سیاسی جماعتوں نے بھی انضمام کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالیں۔





