لاہور : لاہور کے علاقے کاہنہ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے، جسے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو بھجوا دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں حادثے کی اصل وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کر دیا گیا ہے، جبکہ وزیر اعلیٰ نے رپورٹ کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔
رپورٹ کے اہم انکشافات
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سانحہ کاہنہ محض حادثہ نہیں بلکہ غفلت کا نتیجہ تھا۔
حادثے کی وجہ: مکان کی چھت پر ضرورت سے زیادہ مٹی اور ملبہ ڈالنا اس المناک واقعے کی بنیادی وجہ بنا۔ ٹی آئرن اور گارڈر سے بنی چھت یہ بھاری بوجھ برداشت نہ کر سکی اور گر گئی۔
غفلت کا عنصر: چھت پر بچوں کی موجودگی کے باوجود اس پر مٹی ڈلوانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور مجرمانہ غفلت تھی۔
جانی نقصان: حادثے کے وقت ایک خاتون ٹیچر اور 20 بچے چھت کے نیچے موجود تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کی اموات سر کی ہڈیوں پر شدید چوٹیں آنے کے باعث ہوئیں۔
ماہرین کی رائے: عمارت کے ڈھانچے کا جائزہ لینے والے ماہرین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مکان کا ڈھانچہ اضافی بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں تھا۔
رپورٹ میں اس بات کا ذکر بھی کیا گیا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں تاحال کسی متعلقہ سرکاری ادارے کے اہلکار کی غفلت سامنے نہیں آئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تمام تر ذمہ داری نجی سطح پر ہونے والی غفلت پر عائد ہوتی ہے۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر کے فوری کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گھر کے مالک اور اس کے بھائی سمیت کل 5 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور ان سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو بھجوائی گئی اس رپورٹ پر حکومت کی جانب سے باریک بینی سے غور شروع کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

