منچن آباد: راشد ڈھڈی
منچن آباد میں ایک 60 سالہ بزرگ شہری نے پولیس کے خلاف سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اسے ایک مقدمے میں گرفتار کرکے حوالات میں بند کیا گیا، تاہم اسی دوران اس کے خلاف اسی وقوعہ سے متعلق ایک اور مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔متاثرہ شہری کا کہنا ہے کہ وہ گرفتاری کے بعد مسلسل پولیس حراست میں موجود تھا، اس لیے اس کے خلاف دوسرے مقدمے میں درج کیے گئے الزامات حقائق کے منافی ہیں۔ شہری نے الزام عائد کیا کہ تھانہ گھمنڈ پور پولیس نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے اس کے خلاف من گھڑت مقدمہ درج کیا۔شہری نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے لائی جائے اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے حقائق عوام کے سامنے رکھے جائیں۔ انہوں نے ڈی پی او بہاولنگر اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہےمجھے صبح تقریباً گیارہ بجے گرفتار کرکے حوالات میں بند کر دیا گیا تھا، پھر شام کے وقت میرے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر دیا گیا۔ میں سمجھ نہیں سکتا کہ جب میں پولیس کی تحویل میں موجود تھا تو دوسرے وقوعہ میں کیسے شامل ہو سکتا تھا۔ میری اعلیٰ حکام سے اپیل ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج چیک کی جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور مجھے انصاف فراہم کیا جائے۔”متاثرہ شہری کے الزامات کے بعد معاملہ توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جبکہ عوامی حلقے بھی واقعے کی شفاف تحقیقات اور حقائق سامنے لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ابھی تک پولیس حکام کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

