وینزویلا میں ایک ہفتہ قبل آنے والے تباہ کن زلزلے نے ملک میں بڑے پیمانے پر تباہی کے نشان چھوڑ دیے ہیں۔ اس آفت میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2,200 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ 11,000 سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ تباہی سے متعلق ناسا کے محققین نے جو اندازہ پیش کیا ہے، وہ فکر انگیز ہے۔ محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ وسطی اور شمالی وینزویلا میں آنے والے 2 شدید زلزلوں کے باعث تقریباً 58,870 عمارتیں تباہ یا شدید متاثر ہوئی ہیں۔
وینزویلا میں راحت رسانی اور ریسکیو کا عمل اب بھی جاری ہے اور ہزاروں لاپتہ لوگوں کی تلاش کی جا رہی ہے۔ اس مشکل وقت میں میکسیکو کی مشہور امدادی ٹیم ’ٹوپوس‘ مدد کے لیے وینزویلا پہنچنے والی ہے۔ یہ ٹیم ملبہ کے اندر دبے افراد کو نکالنے میں مہارت رکھتی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ تقریباً ایک ہفتے بعد بھی وینزویلا میں حالات انتہائی خراب ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ ریاست لا گوارا ہے، جہاں کئی کثیر منزلہ عمارتیں اور مکانات زمین بوس ہو گئے ہیں۔ بین الاقوامی امدادی ٹیمیں دن رات ملبے تلے دبے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ زندہ بچ جانے والوں کے ملنے کی امیدیں کم ہوتی جا رہی ہیں۔ میکسیکو سے روانہ ہونے والے 39 سالہ رضاکار جرمن بیلو اپنے ساتھ امدادی آلات کے علاوہ بڑی تعداد میں باڈی بیگ بھی لے جا رہے ہیں تاکہ ہلاک شدگان کی لاشوں کو احترام کے ساتھ نکالا جا سکے۔
اب اس ریسکیو مہم میں ’ٹوپوس‘ بھی شامل ہونے والا ہے، جو کہ میکسیکو کا ایک شہری امدادی ادارہ ہے۔ اس کی بنیاد 1985 میں میکسیکو سٹی میں آنے والے ہولناک زلزلے کے بعد رکھی گئی تھی۔ ہسپانوی زبان میں ’ٹوپوس‘ کا مطلب ’چھچھوندر‘ ہوتا ہے۔ اس ٹیم کو یہ نام اس لیے دیا گیا کیونکہ اس کے ارکان ملبے کے درمیان بننے والی انتہائی تنگ جگہوں اور سوراخوں میں رینگ کر داخل ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ تھرمل کیمروں اور حساس مائیکروفون جیسے جدید آلات استعمال کرتے ہیں تاکہ ملبے کے نیچے سے آنے والی معمولی سی آواز یا انسانی جسم کی حرارت کا سراغ لگایا جا سکے۔ امدادی کارروائی کے دوران یہ ٹیم ایک خاص طریقہ اختیار کرتی ہے۔ جب کوئی امدادی کارکن فضا میں مٹھی بند کر کے ہاتھ بلند کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے ’مکمل خاموش ہو جائیں‘۔ یہ اشارہ ملتے ہی وہاں موجود تمام افراد خاموش ہو جاتے ہیں۔ اس سکوت میں امدادی کارکن ملبے کے قریب کان لگا کر سنتے ہیں کہ کہیں سے کوئی آواز یا دستک تو نہیں آ رہی۔ اس کے بعد بیلچوں اور ہتھوڑوں کی مدد سے آہستہ آہستہ ملبہ ہٹایا جاتا ہے تاکہ مزید ملبہ گرنے کا خطرہ پیدا نہ ہو۔

