واٹس ایپ نے صارفین کی پرائیویسی کو ایک نئی جہت دیتے ہوئے اپنی سب سے بڑی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد اب آپ کو کسی کو رابطہ کرنے کے لیے اپنا فون نمبر دینے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
دنیا کی مقبول ترین میسجنگ ایپ ‘واٹس ایپ’ نے بالآخر اپنے صارفین کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے ‘یونیک یوزر نیم’ (Unique Username) کا فیچر متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیچر کے بعد صارفین اپنے فون نمبر کو ظاہر کیے بغیر دوسروں سے رابطہ کر سکیں گے۔
واٹس ایپ کی نائب صدر برائے پروڈکٹ، ایلس نیوٹن-ریکس نے اسے ایک "بنیادی پرائیویسی فیچر” قرار دیا ہے۔ اب تک واٹس ایپ پر کسی سے بھی رابطہ کرنے کے لیے اس کا فون نمبر ہونا لازمی تھا، لیکن اب صارفین کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ صرف اپنے یوزر نیم کے ذریعے پہچانے جائیں۔
فیچر کی اہم خصوصیات:
نمبر کی ضرورت نہیں: کسی کو آپ کا نمبر جانے بغیر آپ تک رسائی ممکن ہوگی۔
سیکورٹی اور تحفظ: ایپ میں یوزر نیمز کی کوئی ڈائریکٹری نہیں ہوگی اور نہ ہی ٹائپ کرتے وقت کسی قسم کی تجاویز (Suggestions) دی جائیں گی۔ رابطہ کرنے کے لیے آپ کو دوسرے شخص کا عین درست یوزر نیم معلوم ہونا ضروری ہوگا۔
نام کی حد: یوزر نیم 3 سے 35 حروف پر مشتمل ہوگا۔
جعلی اکاؤنٹس کی روک تھام: معروف شخصیات، سرکاری اداروں اور اہم عہدیداروں کے ناموں کو محفوظ رکھا جائے گا تاکہ کوئی دوسرا شخص ان کے نام سے جعلی اکاؤنٹ نہ بنا سکے۔
ابھی ریزرویشن کا موقع!
واٹس ایپ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پسندیدہ یوزر نیمز حاصل کرنے کے لیے صارفین میں سخت مقابلہ ہوگا۔ اسی لیے کمپنی نے فیچر مکمل طور پر لانچ ہونے سے پہلے ہی یوزر نیم ریزرو کروانے کی سہولت فراہم کر دی ہے۔ انسٹاگرام اور فیس بک پر موجود کمپنیاں اور مواد تخلیق کرنے والے (Creators) بھی اپنے موجودہ ناموں کو واٹس ایپ پر کلیم کر سکیں گے۔
یہ فیچر آنے والے مہینوں میں تمام صارفین کے لیے فعال کر دیا جائے گا، جس کے بعد واٹس ایپ کے 3 ارب سے زائد صارفین اپنی ڈیجیٹل شناخت کو مزید محفوظ بنا سکیں گے۔

