سانگهڙ. اشفاق سلہری
اندرون سندھ پرائمری ایجوکیشن کی تباہ کار کی وجہ سے جب ان اسکولوں سے بچے ہائی سکول میں آتے تو وہ تعلیمی میدان میں رہنے کی بجائے اسکول چھوڑ کر گھروں پر بیٹھ جاتے یا پھر نقل کا سہارا لیکر میڑک پاس کرلیتے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی انتہائی کوشش سے پرائمری ایجوکیشن کو بہتر بنانے کے لیے بےشمار اقدامات کئے گئے ٹیچرز میرٹ پر بھرتی ہوئے بچوں اور بچیوں کو اسکالر شپ دیے گئے والدین کو بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت بچوں کی تعلیم کے لئے پیسے دینے کے باوجود بھی اس میں بہتری نہ آسکی بہت شکایتیں تھیں کہ اسکول کی بلڈنگ نہیں ہے فرنیچر کی کمی واش روم نہیں ہیں ان باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سانگھڑ میں بھی 32 جديد ترين تمام سہولیات سے لیس ڈیجیٹل سسٹم سے لیس اسکولوں کی تعمیر شروع کر دی گئی ہے مگر دوسری جانب اسکول ایسے علاقوں میں تعمیر ہورے ہیں جہاں آبادی کا تناسب انتہائی کم ہے اور اردگرد بےشمار سرکاری اور پرائیویٹ اسکول موجود ہیں اسی طرح کا ایک اسکول سانگھڑ کے نواحی گاوں لانڈی میں تعمیر ہو رہا ہے یہ اسکول سانگھڑ سے پانچ کلو میٹر دور ہے اس کے قریب بےشمار سرکاری اور پرائیویٹ اسکول موجود ہے اسکول کے چاروں اطراف دور دور تک کوئی آبادی نہیں ہے سوال یہ ہے کہ کیا ورلڈ بینک کا پیسہ اگر مفت میں ملا ہے تو اس کو کس مقصد کے تحت خرچ کیا جائے ناکہ ایسے علاقوں میں اسکول بنا کر وڈیروں کی اوطاق یا جانوروں کے لیے بنایا جائے

