ہنگورجا (خصوصی رپورٹ فياض محسن سولنگي)
اس سال بھی 10 محرم الحرام، یومِ عاشور کے موقع پر ہنگورجا شہر میں حضرت امام حسینؓ اور ان کے وفادار ساتھیوں کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مختلف امام بارگاہوں اور محلوں سے عاشورائی ماتمی جلوس انتہائی عقیدت، احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ برآمد کیے گئے۔ شہر میں صبح سویرے سے مجالس، نوحہ خوانی، سینہ زنی اور ماتمی جلوسوں کا سلسلہ جاری رہا جبکہ ہر طرف "لبیک یا حسینؑ” کی صدائیں گونجتی رہیں۔ مرکزی ماتمی جلوس مرکزی زیدی امام بارگاہ سے برآمد ہوا جو اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا پپڑ چوک پہنچا۔ اسی دوران سید ڈتل شاہ محلہ، ہاشمانی محلہ، لاڑک محلہ اور سید اقرار شاہ امام بارگاہ حسینیان سے بھی ماتمی جلوس برآمد ہوئے جو اپنے روایتی راستوں سے گزرتے ہوئے پپڑ چوک پہنچے، جہاں مختلف علاقوں سے آنے والے عزادار بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔دوسری جانب امام بارگاہ بڑا علم بخاری محلہ سے برآمد ہونے والا ماتمی جلوس بھی سومرا محلہ سے ہوتا ہوا پپڑ چوک پہنچا، جہاں شہر کی مختلف امام بارگاہوں اور محلوں سے آنے والے تمام جلوس ایک مقام پر جمع ہوگئے۔ اس موقع پر عزاداروں نے شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے زنجیر زنی، ضرب کا ماتم، تلواروں کا ماتم اور دیگر روایتی عزاداری کی رسومات ادا کیں، جبکہ نوحہ خواں حضرات کی پرسوز آوازوں اور ماتم داروں کی سینہ زنی سے پورا ماحول سوگوار رہا۔بعد ازاں تمام ماتمی جلوس ایک عظیم مرکزی جلوس کی شکل اختیار کرکے شہر کے مختلف راستوں سے گزرے۔ جلوس شیخ محلہ، مٹھو کی لاہی، میمن محلہ اور مدرسہ مولوی در محمد سے ہوتا ہوا پنجہٹی چوک پہنچا، جہاں عزاداروں کی بڑی تعداد شریک تھی۔ جلوس کے راستوں پر پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے جبکہ رضاکاروں نے نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے بھرپور خدمات انجام دیں۔اس موقع پر رورل ہیلتھ سینٹر ہنگورجا کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر امتیاز وساڻ اپنی طبی ٹیم کے ہمراہ جلوس کے ساتھ موجود رہے۔ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایمبولینس، فرسٹ ایڈ اور دیگر طبی سہولیات کے مکمل انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ طبی عملہ پورے جلوس کے دوران عزاداروں کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کرتا رہا۔عاشورائی جلوس کے دوران مختلف سماجی، مذہبی اور فلاحی تنظیموں سمیت عقیدت مندوں کی جانب سے عزاداروں کے لیے ٹھنڈے پانی، شربت، دودھ اور دیگر مشروبات کی سبیلیں قائم کی گئیں، جبکہ متعدد مقامات پر نذر و نیاز اور لنگر کا بھی اہتمام کیا گیا، جہاں سینکڑوں عزاداروں اور شرکاء کی تواضع کی گئی۔
مرکزی جلوس اپنی مقررہ منزل امام بارگاہ کربلا پہنچ کر اختتام پذیر ہوا، جہاں شہدائے کربلا کی یاد میں آخری مجلس منعقد کی گئی۔ اس موقع پر عزاداروں نے روایتی ٹانڈوں کا ماتم بھی کیا اور حضرت امام حسینؓ، حضرت عباسؓ، حضرت علی اکبرؓ اور دیگر شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔
آخر میں ملک کی سلامتی، امن، بھائی چارے، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور شہدائے کربلا کے فلسفے پر عمل پیرا ہونے کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ حضرت امام حسینؓ کی قربانی حق، سچ، انصاف اور ظلم کے خلاف جدوجہد کا ابدی پیغام ہے، جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ عاشورائے محرم کے موقع پر ہنگورجا میں عزاداری کا یہ روح پرور منظر عقیدت مندوں کی مذہبی وابستگی، امن، بھائی چارے اور شہدائے کربلا سے بے پناہ محبت کا خوبصورت اظہار بن کر سامنے آیا۔

