برطانیہ کے میریٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) کا کہنا ہے کہ اسے عمان کے شمال میں آبنائے ہرمز کے قریب ایک واقعے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق ایک کارگو جہاز کے سٹار بورڈ (دائیں حصے) کو نامعلوم نوعیت کے ایک پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے جہاز کے برج کو نقصان پہنچا ہے۔
جہاز کے کپتان کے مطابق اس واقعے میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا ہے۔
یو کے ایم ٹی او کے مطابق حکام اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور علاقے میں موجود جہازوں کو محتاط رہنے اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے آبنائے ہرمز میں پھنسے 11,000 سے زائد ملاحوں کے انخلا کا منصوبہ اس آبی گزرگاہ کے قریب ایک کارگو جہاز پر ہونے والے حملے کے بعد عارضی طور پر روک دیا ہے۔
آئی ایم او کے سربراہ ارسینیو ڈومنگیز کا کہنا ہے کہ کئی جہازوں کو پہلے ہی نکالا جا چکا ہے، تاہم ادارہ یہ یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ’ضروری حفاظتی ضمانتیں‘ برقرار رہیں۔
برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ ایک جہاز کو عمان کی بندرگاہ دہیت سے جنوب مشرق میں 7.5 سمندری میل کے فاصلے پر ’نامعلوم پروجیکٹائل‘ سے نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس حملے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
سمندری خطرات کے حوالے سے کام کرنے والی کمپنی وین گارڈ کے مطابق کہ سنگاپور کے جھنڈے تلے چلنے والا جہاز ایور لَوَلی حملے کے باوجود آبنائے سے گزر گیا۔
فروری سے امریکا،اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث خلیج میں سینکڑوں جہاز اور ہزاروں ملاح پھنسے ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز سے جہازوں اور ملاحوں کے انخلا کے لیے اقوامِ متحدہ کے آپریشن کا اعلان منگل کو اس وقت کیا گیا تھا جب آبنائے دوبارہ کھولی گئی تھی۔
ڈومنگیز کے مطابق اس ’بڑے پیمانے کے آپریشن‘ میں ایران، عمان، امریکا اور خطے کے دیگر ساحلی ممالک اور میری ٹائم انڈسٹری کا تعاون حاصل تھا۔
ڈومنگیز نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ جس جہاز پر حملہ ہوا وہ ’آئی ایم او کے انخلا فریم ورک کے تحت سفر نہیں کر رہا تھا۔‘
انہوں نے مزید کہا: ’میں ہمیشہ اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ ملاحوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے مربوط حکمتِ عملی اور بحری حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے انخلا کے منصوبے کو اس وقت تک روکا جائے گا جب تک مزید وضاحت حاصل نہیں ہو جاتی۔‘
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ میرین ٹریفک کے مطابق ایور لاولی نامی کارگو جہاز جمعرات کی صبح آبنائے میں جنوبی راستے سے داخل ہوا تھا اور مقامی وقت کے مطابق تقریباً 3:30 بجے مشرق کی جانب سے باہر باہر نکا۔
وین گارڈ کے مطابق اس دوران اس جہاز کو کسی مدد کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
گذشتہ ہفتے امریکا اور ایران نے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر کے کشیدگی کے خاتمے پر اتفاق کیا تھا، جس میں یہ بھی شامل تھا کہ ایران 60 دن تک ’بغیر کسی فیس کے تجارتی جہازوں کو محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے کوششیں کرے گا۔‘
تاہم تہران بار بار کہتا رہا ہے کہ وہ آبنائے سے گزرنے کے لیے ٹول کے بجائے ’بحری خدمات کی فیس‘ وصول کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔

