وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل چیف آف ڈیفنس فورسز سید عاصم منیر اتوار کو امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے۔ پاکستان کی نمائندگی کرینگے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد سے متعلق آج منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
Zürich: 21 June 2026.
Prime Minister and Field Marshal to participate in the High-Level Talks on the implementation of the Islamabad Memorandum of Understanding being held in Burgenstock, Switzerland, on 21st of June 2026.
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif has arrived in… pic.twitter.com/PGEL9vIVsl
— Prime Minister's Office (@PakPMO) June 21, 2026
اعلیٰ سطح کا وفد بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہے۔ مذاکرات کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکا ہے۔
ایران کی جانب سے مذاکراتی وفد کی قیادت پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کریں گے۔
تاہم اُن کے ساتھ اس ایرانی وفد میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے ڈپٹی سیکریٹری علی باقری کنی، نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی اور وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی شامل ہیں۔
امریکا کی جانب سے مذاکرات کے اس دور میں وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے جبکہ اُن سے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی سٹیو وٹکوف بھیں وفد میں شامل ہیں۔
تاہم پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے تکنیکی سطح کے مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ پر امریکا اور ایران کے درمیان 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر جمعرات کو الیکٹرانک دستخطوں کے بعد آمنے سامنے مذاکرات کا نیا دور اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہو رہا ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے بعد مہینوں سے جاری رہنے والی اس کشیدگی کا خاتمہ ہو گیا جس نے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔
معاہدے کے تحت امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے، امریکا کی طرف سے ایران کی ناکہ بندی ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے فریم ورک پر متفق ہو گئے۔
اس سے قبل دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ مذاکرات کے موقعے پر توقع کی جا رہی ہے کہ وزیراعظم ایران، قطر، سوئٹزرلینڈ اور امریکا کے وفود سے دوطرفہ ملاقاتیں کر سکتے ہیں تاکہ ’خطے میں مذاکرات اور پائیدار امن کے لیے پاکستان کے مستقل عزم کا اعادہ کیا جا سکے۔‘


