ریاض+لندن+نیویارک: امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے کے اثرات عالمی منڈی پر نمایاں ہونا شروع ہوگئے ہیں، جس کے نتیجے میں جمعرات کو ابتدائی تجارتی سیشن کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس معاہدے کو عالمی توانائی کے شعبے کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے خاتمے اور ایرانی تیل کی عالمی منڈی میں دوبارہ واپسی کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔
کاروباری لین دین کے دوران، برینٹ کروڈ فیوچرز کی قیمت 89 سینٹس (1.12 فیصد) گر کر 78.66 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کے نرخ بھی 98 سینٹس (1.28 فیصد) کی کمی کے بعد 75.81 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتے نظر آئے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کی جانب سے جاری کردہ حالیہ تجزیے میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر یہ معاہدہ مکمل طور پر اپنی منزل تک پہنچتا ہے، تو آئندہ برسوں میں توانائی کی منڈی کا منظرنامہ مکمل طور پر بدل سکتا ہے۔ ایجنسی کے مطابق، 2027 تک عالمی منڈی میں سپلائی کا موجودہ دباؤ ختم ہو کر ایک بڑی اضافی رسد (سرپلس) میں تبدیل ہونے کا قوی امکان ہے۔
دوسری طرف، معاشی ماہرین تیل کی قیمتوں میں اس کمی کو ایک اور زاویے سے بھی دیکھ رہے ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے شرح سود میں متوقع اضافے کی اطلاعات نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ اس اقدام سے معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور نتیجے میں تیل کی عالمی طلب میں کمی کا خدشہ بھی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو بڑا جھٹکا؛ امریکہ-ایران ڈیل کے بعد نرخوں میں نمایاں گراوٹ!

