اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ بجٹ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) سیکٹر پر ٹیکس کی شرح میں 300 فیصد تک اضافے پر غور کیا جا رہا ہے، جس سے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور فری لانسرز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پروپاکستانی کی رپورٹ کے مطابق حکومت آئی ٹی کمپنیوں پر عائد ٹیکس کی شرح کو موجودہ 0.25 فیصد سے بڑھا کر 1 فیصد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ تجویز ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملکی ٹیکنالوجی سیکٹر برآمدات اور فری لانس کمائی میں نمایاں ترقی کر رہا ہے۔
’پاکستان اکنامک سروے 2025-26‘ کے مطابق، مالی سال 2026 کے ابتدائی 9 ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران آئی سی ٹی (ICT) برآمدی ترسیلاتِ زر تقریباً 20 فیصد اضافے کے ساتھ 3.388 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں، جو گزشتہ سال اسی مدت کے دوران 2.829 ارب ڈالر تھیں۔ اسی طرح، فری لانس اکانومی بھی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جس میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 51 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا اور یہ ترسیلات 856.3 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (PAFLA) کا مطالبہ
یہ متوقع ٹیکس اضافہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (PAFLA) نے وفاقی بجٹ 2026-27 کے لیے حکومت سے ٹیکسوں میں سہولت برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ PAFLA نے ایف بی آر اور وزارتِ خزانہ سے اپیل کی تھی کہ:
غیر ملکی زرمبادلہ پر موجودہ 0.25 فیصد ٹیکس کی شرح کو کم از کم اگلے دس سال تک برقرار رکھا جائے۔
بڑے شہروں میں فری لانسنگ ہب قائم کیے جائیں۔
بین الاقوامی سرٹیفیکیشنز کے لیے سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ ورک فورس کی صلاحیتوں کو مزید نکھارا جا سکے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی ڈیجیٹل مارکیٹ میں پاکستان کی موجودگی کو بڑھانے اور برآمدات کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے مسابقتی ٹیکس نظام کا ہونا ناگزیر ہے۔ ٹیکس میں بھاری اضافہ سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر سکتا ہے۔

