واشنگٹن :ایران کے ساتھ جاری شدید کشیدگی کے درمیان امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، حال ہی میں پیش آنے والے تصادم کے بعد سمندر میں گرنے والے امریکی پائلٹوں کو ایک جدید سمندری ڈرون (USV) کی مدد سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
امریکی سینٹکام کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ پائلٹوں کو بازیاب کروانے کے لیے بحری کمانڈ کو فضائیہ کا تعاون حاصل رہا۔ اس مشن میں بحرین میں موجود ‘ٹاسک فورس 59’ کا استعمال کیا گیا، جو خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں بحری سکیورٹی کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے تشکیل دی گئی ہے۔
The U.S. Has been testing Unmanned systems Technology for the better part of t-10 years be it in sUAS, UAV or Counter Technologies.
This quick Video is three yeas old as we know that the USA has Task Force 59 and TF 59.1 in full operational command. pic.twitter.com/eAnwxp2l2F
— James Boyd (@MedicFL1) June 9, 2026
ترجمان کے مطابق، جدید ڈرون نے پانی میں موجود پائلٹوں کو تلاش کیا اور انہیں ایک محفوظ مقام تک پہنچایا، جہاں سے انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے نکال کر محفوظ ٹھکانے پر منتقل کر دیا گیا۔
‘کورسیئر’ ڈرون کی طاقت
اس کامیاب ریسکیو مشن میں ‘کورسیئر’ (Corsair) نامی سمندری ڈرون نے کلیدی کردار ادا کیا۔ ‘سرونک ٹیکنالوجیز’ کی تیار کردہ اس ٹیکنالوجی کی اہم خصوصیات درج ذیل ہیں:
ڈیزائن: یہ تقریباً 24 فٹ لمبا اور ایک تیز رفتار کشتی کے ڈیزائن کا حامل ہے۔
وزن اٹھانے کی صلاحیت: یہ ڈرون بیک وقت ایک ہزار پاؤنڈ تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رفتار: اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 35 ناٹ (Knots) ہے۔
حدِ سفر: یہ ڈرون ایک ہزار ناٹیکل میل تک کا سفر طے کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس کامیاب آپریشن نے ثابت کر دیا ہے کہ جدید خودکار نظام اور ڈرون ٹیکنالوجی جنگی حالات اور ہنگامی صورتحال میں انسانی جانیں بچانے کے لیے کتنی مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

